- وظائف اور دعاؤں میں کیا فرق ہے؟ آیا کسی بھی آئیت، یا دعا کا ورد وظیفہ بن جاتا ہے؟
- مختلف وظائف کی تعداد کیسے مختص کی جاتی ہے؟
- کیا یہ درست ہے کہ ہر وظیفہ ہر ایک کو راس نہیں آتا اور ثواب حاصل کرنے کے باوجود اسکے برے اثرات بھی پڑسکتے ہیں؟
- کیا احادیث مبارکہ میں بیان کردہ دعائیں اور وظائف ہر کوئی کسی صاحب علم کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتا ہے یا پہلے یہ پتا کرنا پڑتا ہے کہ یہ ورد یا وظیفہ راس آئیے گا یا نہیں۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
۱۔ اگر کسی ایک ہی دعاء یا ذکر کو بار بار دہرایا جائے تو اسے "ورد" کہہ لیا جاتا ہے ۔
۲۔ مختلف اذکار وادعیہ کی تعداد احادیث میں متعین کی گئی ہے ۔ انکے علاوہ کسی بھی ذکر یا دعاء کی اپنی طرف سے تعداد مقرر کرنا درست نہیں ۔
۳۔ غلط ہے !
۴۔ اللہ کا ذکر سب کو راس آتا ہے بشرطیکہ سنت کے مطابق کیا جائے ۔ اور جب ایک ذکر کرنے کی اجازت اللہ نے دے رکھی ہے تو کسی دوسرے کی اجازت کی ضرورت نہیں اور اگر کسی ورد کی اجازت اللہ نے نہیں دی تو کسی کی بھی اجازت بے سود ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق