• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 20

مغرب کی نماز کا آخری وقت غروب آفتاب سے نصف گھنٹہ تک ہے یا ڈیڑھ گھنٹہ تک۔؟؟؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی کتاب الشمس والقمر بحسبان زیر مطالعہ تھی۔ اس میں ان دو باتوں میں تضاد سا محسوس ہوا۔ سوچا علماء کرام سے پوچھ لوں۔ کہیں غلط ہی نہ پڑھتا رہوں۔
صفحہ نمبر 103 پر لکھا ہے کہ :” گویا مغرب کا وقت تنگ اور محدود ہے اور یہ وقت زیادہ سے زیادہ شفق کی سرخی غائب ہونے تک ہے۔“
صفحہ نمبر 105 پر لکھا ہے کہ: ” (مغرب) کا آخری وقت سورج غروب ہونے کے بعد سے صرف نصف گھنٹہ تک ہے “
اور : ”غروب شفق کا وقت غروب آفتاب سے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ بعد تک ہوتا ہے۔“
امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں کہ مجھے کیا تعارض محسوس ہورہا ہے۔ کہ مغرب کی نماز کا آخری وقت غروب آفتاب سے نصف گھنٹہ تک ہے یا ڈیڑھ گھنٹہ تک۔؟؟؟

 
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب


صحیح مسلم حـ 612 میں‌ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرْ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبْ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ

لہذا یہ مصنف مرحوم کا سہو ہے۔
کیونکہ شفق سرخی کو کہتے ہیں‌۔
اور مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک یعنی سرخی کے غائب ہونے تک رہتا ہے یا دوسرے لفظوں میں عشاء کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے تک ۔
اور نماز مغرب اور نماز فجر کے وقت کا دورانیہ تقریبا برابر برابر ہی ہوتا ہے یعنی تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق