کفر , کفر اصغر يا دون کفر کب بنتا ہے ؟ ‘ کيونکہ ابن عباس رضي اللہ عنہ
کفر دون کفر کے قائل تھے ؟ چنانچہ آجکل اکثر آيات واحاديث ميں وارد شدہ
لفظ کفر کو کفر دون کفر پر محمول کيا جانے لگا ہے ؟
لہذا اس بارہ ميں کوئي اصول يا ضابطہ متعين فرما ديں جس سے کفر اکبر اور کفر اصغر کے مابين فرق کرنا آسان ہو جائے ؟
لہذا اس بارہ ميں کوئي اصول يا ضابطہ متعين فرما ديں جس سے کفر اکبر اور کفر اصغر کے مابين فرق کرنا آسان ہو جائے ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
عمومی اصول اور قاعدہ یہ ہے کہ کتاب وسنت میں جہاں بھی لفظ کفر استعمال ہوا ہے اس سے کفر اکبر ہی مراد ہے ۔
کیونکہ یہ اسکا حقیقی معنى ہے ۔
ہاں جب کوئی قرینہ اور دلیل موجود ہو تو اس لفظ کفر کو اسکے حقیقی معنى خروج عن الملة الإسلامیہ کے بجائے مجازی معنى کبیرہ گناہ کے معنى میں سمجھا جاسکتا ہے ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کفر دون کفر والا کلمہ اسی طرح کے موقع پر بولا ہے ۔
کفر دون کفر کی چند مثالیں سمجھ لیں :
۱۔ خاوندوں کی نافرمانی :: اسکے بارہ میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے لفظ بولا ہے "تکفرن العشیر" تم خاوندوں کا کفر کرتی ہو ۔ یہاں کفر کی نسبت "خاوندوں" کی طرف ہے لہذا اس سے کفر باللہ یا کفر اکبر مراد نہیں لیا جاسکتا ۔
۲۔ مسلمان سے لڑنا : اسکے بارہ میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے لفظ بولا ہے " سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر" مسلمان کو گالی دینا فسق (نافرمانی) ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔
اس لفظ کفر کے لیے قرینہ صارفہ موجود ہے جو قرآن مجید میں بھی ہے " وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا " اور اگر مؤمنوں کی دو جماعتیں آپس میں قتال کریں ... الخ ۔ یہاں قتال کرنے والی دونوں جماعتوں کو "مؤمنوں کی جماعتیں" قرار دیا گیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن سے لڑنا اور قتال کرنا کفر اکبر نہیں ہے ۔
۳۔ کسی مسلمان کوکافر قرار دینا : اسکے بارہ میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے الفاظ استعمال کیے ہین " من کفر أخاہ فقد باء بھا أحدھما" جس نے اپنے بھائی کو کافر قرار دیا تو اس (کفر) کا مرتکب ان دونوں میں سے ایک ہو جائے گا ۔ یہاں بھی نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم لفظ بھائی استعمال کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کفر اکبر نہیں بلکہ کفر اصغر ہے ۔
فافہم !
کیونکہ یہ اسکا حقیقی معنى ہے ۔
ہاں جب کوئی قرینہ اور دلیل موجود ہو تو اس لفظ کفر کو اسکے حقیقی معنى خروج عن الملة الإسلامیہ کے بجائے مجازی معنى کبیرہ گناہ کے معنى میں سمجھا جاسکتا ہے ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کفر دون کفر والا کلمہ اسی طرح کے موقع پر بولا ہے ۔
کفر دون کفر کی چند مثالیں سمجھ لیں :
۱۔ خاوندوں کی نافرمانی :: اسکے بارہ میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے لفظ بولا ہے "تکفرن العشیر" تم خاوندوں کا کفر کرتی ہو ۔ یہاں کفر کی نسبت "خاوندوں" کی طرف ہے لہذا اس سے کفر باللہ یا کفر اکبر مراد نہیں لیا جاسکتا ۔
۲۔ مسلمان سے لڑنا : اسکے بارہ میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے لفظ بولا ہے " سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر" مسلمان کو گالی دینا فسق (نافرمانی) ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔
اس لفظ کفر کے لیے قرینہ صارفہ موجود ہے جو قرآن مجید میں بھی ہے " وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا " اور اگر مؤمنوں کی دو جماعتیں آپس میں قتال کریں ... الخ ۔ یہاں قتال کرنے والی دونوں جماعتوں کو "مؤمنوں کی جماعتیں" قرار دیا گیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن سے لڑنا اور قتال کرنا کفر اکبر نہیں ہے ۔
۳۔ کسی مسلمان کوکافر قرار دینا : اسکے بارہ میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے الفاظ استعمال کیے ہین " من کفر أخاہ فقد باء بھا أحدھما" جس نے اپنے بھائی کو کافر قرار دیا تو اس (کفر) کا مرتکب ان دونوں میں سے ایک ہو جائے گا ۔ یہاں بھی نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم لفظ بھائی استعمال کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کفر اکبر نہیں بلکہ کفر اصغر ہے ۔
فافہم !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق