السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
منگیتر سے میسج پر سلام دعا کرنا اور حال احوال پوچھنا جائز ہے؟
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً [الأحزاب : 32]
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ [الأحزاب : 53]
مندرجہ بالا آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اس کا جواز نکلتا ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
منگیتر کا معاملہ دیگر غیر محرموں والا ہی ہے ۔جسطرح اور جسقدر حال احوال دیگر غیر محرموں سے پوچھ سکتے ہیں اسی قدر اور اسی طرح ہی منگیتر سے بھی پوچھا جاسکتا ہے ۔
منگیتر سے میسج پر سلام دعا کرنا اور حال احوال پوچھنا جائز ہے؟
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً [الأحزاب : 32]
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ [الأحزاب : 53]
مندرجہ بالا آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اس کا جواز نکلتا ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب و الیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
منگیتر کا معاملہ دیگر غیر محرموں والا ہی ہے ۔جسطرح اور جسقدر حال احوال دیگر غیر محرموں سے پوچھ سکتے ہیں اسی قدر اور اسی طرح ہی منگیتر سے بھی پوچھا جاسکتا ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق