• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 13

کتنے دن تک نماز قصر کی جاسکتی ہے؟

کتنے دن تک نماز قصر کی جاسکتی ہے؟ کیا شریعت میں یہ تفریق بیان کی گئی ہے کہ اگر ایک مسافر متردد ہوتو جتنے دن تک وہ کسی جگہ قیام کرے، اتنے دن تک قصر کرسکتا ہے اور اگر مطمئن ہوتو صرف تین یا چار دن تک قصر کرسکتا ہے؟ 




< جواب >

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سے زیادہ چار دن تک قصر کرنا ثابت ہے اس سے زیادہ قیام ہو تو قصر درست نہیں کیونکہ ثابت نہیں , چار دن کا ثبوت حج والی حدیث میں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ وَلَبِسَ إِزَارَهُ وَرِدَاءَهُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمْ يَنْهَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ الْأَرْدِيَةِ وَالْأُزُرِ تُلْبَسُ إِلَّا الْمُزَعْفَرَةَ الَّتِي تَرْدَعُ عَلَى الْجِلْدِ فَأَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَلَّدَ بَدَنَتَهُ وَذَلِكَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ فَقَدِمَ مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ بُدْنِهِ لِأَنَّهُ قَلَّدَهَا ثُمَّ نَزَلَ بِأَعْلَى مَكَّةَ عِنْدَ الْحَجُونِ وَهُوَ مُهِلٌّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَقْرَبْ الْكَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّى رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يُقَصِّرُوا مِنْ رُءُوسِهِمْ ثُمَّ يَحِلُّوا وَذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ بَدَنَةٌ قَلَّدَهَا وَمَنْ كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فَهِيَ لَهُ حَلَالٌ وَالطِّيبُ وَالثِّيَابُ
صحیح بخاری کتاب الحج باب ما یلبس المحرم من الثیاب والأردیۃ والأزر ح ۱۵۴۵
اس حدیث سے واضح ہے کہ مکہ میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم جب پہنچے تو ذوالحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں
اور نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں پہنچ چکے تھے یہ تو معلوم ہی ہے ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مکہ میں قیام چار دن کیا تھا
اور حج کے موقع پر مکہ میں قصر نماز ہی پڑھی تھی یہ تو سب احادیث سے واضح ہے ۔

حالت تردد میں زیادہ سے زیادہ انیس دن تک قصر کرنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے , اس سے زیادہ نہیں !
لہذا حالت تردد میں انیس دن تک قصر کی جاسکتی ہے , اگر تردد بڑھ جائے تو نماز پوری پڑھے ۔
انیس دن کی دلیل فتح مکہ والی روایت میں ہے ۔حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ وَحُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ قَصَرْنَا وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا
صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب ما جاء فی التقصیر وکم یقیم حتی یقصر ح ۱۰۸۰
اور یہ واقعہ فتح مکہ کا تھا اور حالت تردد کی تھی , کیونکہ آپکا معمول اور اصول مفتوحہ علاقے میں تین دن ٹھہرنے کا تھا :
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَهَذَا لَفْظُهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِي عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب متى یتم المسافر ح ۱۲۲۹
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق