• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 22

بخاری ومسلم پر اعتراض بذریعہ امام بخاری کے استاد عبد الرحمن بن مہدی کا قول

اعتراض یہ ہے 




الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

اس اعتراض مین موصوف نے جو پہلا پیراگراف لکھا ہے اس پر انہوں نے کوئی دلیل نہیں پیش کی ۔ جس سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ یہ پہلا پیرا چسے بنیاد بنا کر سارا مضمون لکھا گیا ہے وہی بے بنیاد ہے !

اور عبد الرحمن بن مہدی کے جس قول کو بنیاد بنایا جا رہا ہے وہ انکا اپنا منہج و طرز عمل ہے , جمیع محدثین کا نہیں !۔ دیگر محدثین سے فضائل اعمال میں بھی تشدد منقول ہے ۔


اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر نکاح والی روایت کا تعلق بھی حلال وحرام سے ہے ۔ کہ اس عمر میں نکاح حلال ہے یا حرام ! لہذا اگر متذکرہ بالا ساری باتیں درست ثابت بھی ہو جائیں تو بھی موصوف کی "دال نہیں گلتی" ۔ کیونکہ عبد الرحمن بن مہدی فرما رہے ہیں :

إِذَا رَوِينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلَالِ، وَالْحَرَامِ، وَالْأَحْكَامِ، شَدَّدْنَا فِي الْأَسَانِيدِ، وَانْتَقَدْنَا الرِّجَالَ،
یعنی جب ہم نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے حلال وحرام اور احکام کے بارہ میں روایت کرتے ہیں تو اسانید میں تشدد کرتے ہیں اور رجال کو بھی خوب پرکھتے ہیں ۔

اسی طرح واقعہ افک والی روایت کا تعلق بھی احکام سے ہی ہے کہ اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مسطح پر خرچ کرنا , قاذف (بہتان باندھنے والے ) کی سزا , اہم امور میں مشاورت وغیرہ کے احکام موجود ہیں ۔


اور حالت حیض میں مباشرت سے مراد جماع نہیں ہے جیسا کہ انہی احادیث میں موجود ہے کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے کہ میں ازار باندھ لوں پھر آپ مجھ سے مباشرت فرماتے یعنی جسم کے ساتھ جسم لگاتے ۔

اور اتفاقا اس روایت کا تعلق بھی حلال وحرام سے ہی ہے ۔


موصوف کے مضمون سے انکار حدیث کی بدترین بو آرہی ہے ۔


author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق