السلام اعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کیا کوٕئی بھی بیماری ہو کسی انسان کو کیا اس سے دوسرے انسان کو وہ بیماری لگ سکتی ہے؟ اسلام میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کیا کہا ہے اور صحابہ نے کس طرح سمجھا اور عمل کیا؟
اس بارے میں دلائل کی روشنی میں جواب دیجیئے گا۔
جزاک اللہ خیر۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا فَقَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
صحیح البخاری کتاب الطب باب لا صفر ح 5717
کوئی بیماری متعدی نہیں , اور نہ ہی ماہ صفر منحوس یا حرمت والا ہے اور نہ ہی الو میں نحوست ہے , تو ایک اعرابی نے کہا پھر میرے اونٹوں کو کیا ہوتا ہے ؟ وہ صحرا میں ہرن کی طرح ہوتے ہیں ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے تو انہیں بھی خارش زدہ کر دیتا ہے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا ؟
کیا کوٕئی بھی بیماری ہو کسی انسان کو کیا اس سے دوسرے انسان کو وہ بیماری لگ سکتی ہے؟ اسلام میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کیا کہا ہے اور صحابہ نے کس طرح سمجھا اور عمل کیا؟
اس بارے میں دلائل کی روشنی میں جواب دیجیئے گا۔
جزاک اللہ خیر۔
الجواب بعون الوہاب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا فَقَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
صحیح البخاری کتاب الطب باب لا صفر ح 5717
کوئی بیماری متعدی نہیں , اور نہ ہی ماہ صفر منحوس یا حرمت والا ہے اور نہ ہی الو میں نحوست ہے , تو ایک اعرابی نے کہا پھر میرے اونٹوں کو کیا ہوتا ہے ؟ وہ صحرا میں ہرن کی طرح ہوتے ہیں ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے تو انہیں بھی خارش زدہ کر دیتا ہے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا ؟
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق