• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

السبت، أبريل 14

شادی کے لیے طلاق کا مطا لبہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ
مکرم و محترم شیخ

ایک لڑکا دوسری شادی کرنا چاھتا ھے مگر
لڑکی والوں کی طرف سے یہ مطالبہ ھے کہ لڑکا اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے پھر ھماری لڑکی سے شادی کرے۔ آیا شرعی طور پرکسی بھی صورت میں یہ مطا لبہ درست ھے؟
جزاک اللہ خیرا۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں ہرگز نہیں ۔
بلکہ یہ مطالبہ حرام ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے : وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ إِنَاءَهَا
صحیح بخاری کتاب الشروط باب مالا یجوز من الشروط فی النکاح ح ۲۷۲۳
کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کا برتن فارغ کرنیکی خاطر اس کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے ۔
یعنی جو نان ونفقہ اور حقوق اسے اسکے خاوند کی طرف سے مل رہے ہیں اس سے اسکے ان حقوق سے محروم کرنے کے لیے طلاق کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔
اور صورت مسؤلہ میں یہی کام ہو رہا ہے جس سے منع کیا گیا ۔
لہذا نکاح کے لیے ایسی شرائط لگانا حرام ہے !
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق