اسلام علیکم
۔جناب مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ رقم کی صورت میں زکاۃ کی ابتدا ایک لاکھ
50000، 30000، 20000 یا اسے کم روپے پر ہوگی جبکہ اس رقم کو پاس رکہے سال
گزر گیا ہو
< جواب >
کرنسی جو آجکل رائج ہے یہ اپنی کوئی وقعت نہیں رکھتی ۔
آپکے پاس پانچ ہزار کا نوٹ بھی ہو کل کلاں حکومت اعلان کردے کہ ہم نے یہ نوٹ منسوخ کر دیا ہے اسکی جگہ نیا نوٹ رائج کر دیا گیا ہے
تو آپکے پانچ ہزار کے نوٹ کی حیثیت ردی کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں !
شریعت ایسی کرنسی کو مانتی ہے جو ڈی ویلیو نہیں ہوسکتی , جو اپنی حیثیت اپنے اندر رکھتی ہے , کوئی خارجی امر اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔
اسی لیے شرع نے سونے اور چاندی کے سکوں یعنی درہم و دینار کو معیار بنایا ہے ۔
اور سونے چاندی کے سوا دنیا کی تمام تر کرنسیاں خواہ وہ پیپر کرنسی ہو , چپ کرنسی ہو , یا الیکٹرانک کرنسی , سب اسی پر پرکھی جائیں گی
یعنی جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت موجود ہوگی اس پر زکوۃ فرض ہے ۔
آپکے پاس پانچ ہزار کا نوٹ بھی ہو کل کلاں حکومت اعلان کردے کہ ہم نے یہ نوٹ منسوخ کر دیا ہے اسکی جگہ نیا نوٹ رائج کر دیا گیا ہے
تو آپکے پانچ ہزار کے نوٹ کی حیثیت ردی کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں !
شریعت ایسی کرنسی کو مانتی ہے جو ڈی ویلیو نہیں ہوسکتی , جو اپنی حیثیت اپنے اندر رکھتی ہے , کوئی خارجی امر اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔
اسی لیے شرع نے سونے اور چاندی کے سکوں یعنی درہم و دینار کو معیار بنایا ہے ۔
اور سونے چاندی کے سوا دنیا کی تمام تر کرنسیاں خواہ وہ پیپر کرنسی ہو , چپ کرنسی ہو , یا الیکٹرانک کرنسی , سب اسی پر پرکھی جائیں گی
یعنی جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت موجود ہوگی اس پر زکوۃ فرض ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق