• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، أبريل 12

وسیلے سے متعلق ایک حدیث کی صحت

طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے کہ کہ ایک شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ان کے پاس آیا کرتا تھا لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ ان کی طرف توجہ کرتے او رنہ اس کی شکایت پر کان دھرتے اس شخص نے حضرت عثمان بن حنیف سے اس کی شکایت کی تو انہوں نے کہا وضو خانے میں جاکر وضو کرو اور مسجد نبوی میں جاکر دورکعات نماز پڑھو اور یہ دعا مانگو اے اللہ تجھ سے تیرے نبی کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے محمد میں آپ کو آپ کے رب کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ آپ میری حاجت پوری فرمادیں یہ دعا پڑھ کر اپنی حاجت کا ذکرکرنا اس شخص نےایسا ہی کیا پھر حضرت عثمان  کے دروازے پر پہنچا تو دربان اس کا ہاتھ پکڑ کرحضرت عثمان کے پاس لے گیا اور ان کے پاس بٹھادیا حضرت عثمان نے اس سے کہا اپنی حاجت بیان کرو اس نے بیان کی تو آپ نے پوری کرڈالی اور فرمایا جو بھی ضرورت ہو تو کہنا وہ شخص وہاں سے اٹھ کر حضرت عثمان بن حنیف کے پاس گیا اور کہا اللہ آپ کو جزائے خیر دے حضرت عثمان تو میری طرف رخ ہی نہیں کرتے تھے لیکن آپ نے ان سے گفتگو کی تو متوجہ ہوئے ابن حنیف نے کہا واللہ میں نے تو ان سے بات تک نہیں کی لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ کے پاس ایک اندھاآیا اور اپنے اندھے پن کی شکایت کی پھر نابینا والی پوری حدیث بیان کی یہ حدیث دلائل النبوۃ میں بھی موجود ہے اور اس کی سند اس طرح ہے أخبرنا أبو سعيد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد ، رحمه الله ، أنبأنا الإمام أبو بكر محمد بن علي بن إسماعيل الشاشي القفال ، قال : أنبأنا أبو عروبة ، حدثنا العباس بن الفرج ، حدثنا إسماعيل بن شبيب ، حدثنا أبي ، عن روح بن القاسم ، عن أبي جعفر المديني ، عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف أن رجلا كان يختلف إلى عثمان بن عفان رضي الله عنه في حاجته...... [al-Bayhaqi’s Dala’il (no. 2417)] 



< جواب >

یہ روایت بطریق ابن وہب از شبیب بن سعید کتاب الدعاء للطبرانی 1/320 , المعجم الکبیر للطبرانی 9/31 , العدۃ للکرب والشدۃ للمقدسی, معرفۃ الصحابہ لأبی نعیم ح 4505 , 4946 میں مذکور ہے ۔
اور اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ شبیب بن سعید کی مرویات جنہیں عبد اللہ بن وہب نے بیان کیا ہے منکر یعنی ضعیف ہیں ۔
اسی طرح یہی روایت بطریق العباس بن الفرج از اسماعیل بن شبیب از شبیب از روح بن القاسم از ابو جعفر المدینی , دلائل النبوۃ للبیہقی ح 2417 , 2425 , الترغیب فی الدعاء لعبد الغنی المقدسی ح 61 , میں مذکور ہے ۔
اس سند کے مرکزی راوی عباس بن الفرج کے بارہ میں ابو داود السجستانی کہتے ہیں کہ لیس بشیء اور ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں منکر الحدیث ہے , أحمد بن شیعب النسائی فرماتے ہیں متروک الحدیث ہے , اسی طرح امام بخاری اور امام مسلم نے بھی اسے منکر الحدیث قرار دیا ہے ۔
لہذا یہ روایت پایہء ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔

تنبیہ بلیغ :
کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ : " اس کی سند میں روح بن قاسم ہے اور اس قصہ کے ضعف کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا دار ومدار شبیب بن سعید پر ہے۔ " محل نظر ہے , کیونکہ روح بن القاسم تو ثقہ ہے اسے ابو حاتم رازی ، ابو زرعہ ، یحیى بن معین ، ذہبی ، ابن حجر ، احمد بن حنبل ، سفیان بن عیینہ اور نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
اسکا مدار صرف  شبیب پر نہیں  ہے کیونکہ اسکی کچھ اسانید ایسی بھی ہیں جن میں شبیب نہیں ہے مثلا :
المعجم الصغير للطبراني - من اسمه طاهر
حديث:‏509‏
حدثنا طاهر بن عيسى بن قيرس المقري المصري التميمي ، حدثنا أصبغ بن الفرج ، حدثنا عبد الله بن وهب ، عن شبيب بن سعيد المكي ، عن روح بن القاسم ، عن أبي جعفر الخطمي المدني ، عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف ، عن عمه عثمان بن حنيف " أن رجلا كان يختلف إلى عثمان بن عفان رضي الله عنه في حاجة له , فكان عثمان لا يلتفت إليه , ولا ينظر في حاجته , فلقي عثمان بن حنيف , فشكا ذلك إليه , فقال له عثمان بن حنيف : ائت الميضأة فتوضأ , ثم ائت المسجد فصل فيه ركعتين , ثم قل : اللهم , إني أسألك وأتوجه إليك بنبينا محمد صلى الله عليه وآله وسلم نبي الرحمة يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك عز وجل فيقضي لي حاجتي , وتذكر حاجتك , ورح إلي حتى أروح معك , فانطلق الرجل , فصنع ما قال له عثمان , ثم أتى باب عثمان , فجاء البواب حتى أخذ بيده , فأدخله على عثمان بن عفان , فأجلسه معه على الطنفسة , وقال : حاجتك ؟ فذكر حاجته , فقضاها له , ثم قال له : ما ذكرت حاجتك حتى كانت هذه الساعة , وقال : ما كانت لك من حاجة , فأتنا , ثم إن الرجل خرج من عنده , فلقي عثمان بن حنيف , فقال : له جزاك الله خيرا , ما كان ينظر في حاجتي , ولا يلتفت إلي حتى كلمته في , فقال عثمان بن حنيف : والله , ما كلمته ولكن شهدت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأتاه ضرير , فشكا عليه ذهاب بصره , فقال : له النبي صلى الله عليه وآله وسلم : " أفتصبر ؟ " , فقال : يا رسول الله , إنه ليس لي قائد , وقد شق علي , فقال له النبي صلى الله عليه وآله وسلم : " ائت الميضأة , فتوضأ , ثم صل ركعتين , ثم ادع بهذه الدعوات " قال عثمان بن حنيف : فوالله , ما تفرقنا وطال بنا الحديث حتى دخل علينا الرجل كأنه لم يكن به ضرر قط " لم يروه عن روح بن القاسم إلا شبيب بن سعيد أبو سعيد المكي وهو ثقة وهو الذي يحدث عن أحمد بن شبيب , عن أبيه , عن يونس بن يزيد الأبلي , وقد روى هذا الحديث شعبة عن أبي جعفر الخطمي واسمه عمير بن يزيد , وهو ثقة تفرد به عثمان بن عمر بن فارس عن شعبة ، والحديث صحيح وروى هذا الحديث عون بن عمارة , عن روح بن القاسم , عن محمد بن المنكدر , عن جابر رضي الله عنه وهم فيه عون بن عمارة والصواب : حديث شبيب بن سعيد *
علاوہ ازیں شبیب ضعیف بھی نہیں ہے صرف ابن وہب کی اس سے مرویات کو اہل نظر نے ضعیف کہا ہے وگرنہ وہ ثقہ ہے ۔


author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق