• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، أبريل 12

جرح مقدم ہے یا تعدیل ؟

بعض علماء کہتے ہیں کہ جرح والتعدیل میں جمہور کو مد نظر رکھا جائے گا، اور بعض کہتے ہیں کہ جرح کو تعدیل پر مقدم رکھا جائے گا چاہے تعدیل کرنے والے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں، اور اسی طرح بہت سے مختلف نظریات ملتے ہیں، تو میرا سوال ہے کہ ان اقوال میں سے راجح کیا ہے؟ دلائل کے ساتھ واضح کریں۔ 



< جواب >

جرح و تعدیل میں یہ اصول کار فرما ہوتا ہے کہ :
تعدیل جرح سے مقدم ہوتی ہے اگر مبہم ہو تو
جرح مفسر تعدیل سے مقدم ہوتی ہے
متشددین کی جرح معتدلین کی نسبت کم اہمیت رکھتی ہے
متساہلین کی تعدیل معتدلین کی نسبت کم اہمیت رکھتی ہے
جرح وتعدیل میں سے اگر ۱۔ دونوں مبہم ہوں تو تعدیل مقدم ہے
۲۔ دونوں مفسر ہوں تو جرح مقدم ہے

__________

تعدیل ہر مسلمان و مؤمن کا حق ہے اس سے حسن ظن کی بناء پر اسکی تعدیل ہی کی جائے گی لیکن یہ تعدیل عدالت میں ہوگی ضبط میں نہیں ضبط کے لیے دلیل درکار ہے ۔
جرح مفسر کو تعدیل پر اس لیے مقدم کیا جاتا ہے کہ جرح مفسر کرنے والا مجروح کے حالات سے واقف ہوتا ہے جبکہ تعدیل کرنیوالا محض حسن ظن کا شکار ! اور اللہ تعالى نے فرمایا ہے فاسئلوا أھل الذکر إن کنتم لا تعلمون . لہذا جرح مفسر تعدیل پر مقدم ہوگی
اور تعدیل جرح مبہم پر مقدم ہوگی

_______
لفظ " جمہور" ایک بے بنیاد چیز ہے ۔
کیونکہ جمہور کا معنى ہوتا ہے
بڑے بڑے بلند پایہ لوگ ۔
لغت عرب میں بلند وبالا ٹلیوں کے لیے جو دوسروں سے ممتاز ہوں یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے خواہ وہ تعداد میں تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں
یعنی جمہور کا سادہ سا معنى آپ سمجھ لیں کہ ایسے اہل علم جو دوسروں کے مقابلہ میں بلند پایہ رکھتے ہوں خواہ وہ تعداد میں قلیل ہی کیوں نہ ہوں
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق