السلام علیکم
ایک حدیث کا مفہوم ہے " مرنے والے کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن اسے تین زرائع سے ثواب ملتا رہتا ہے صدقہ جاریہ نفع بخش علم اور نیک اور سعادت مند اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے استغفار کرے۔" مجھے اس مقصد کے لئے استغفار کا مسنون طریقہ پوچھنا ہے۔ براہِ مہربانی، اگر ہو سکے تو ہر طریقہ کے بارے میں بتا دیا جائے۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے " مرنے والے کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن اسے تین زرائع سے ثواب ملتا رہتا ہے صدقہ جاریہ نفع بخش علم اور نیک اور سعادت مند اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے استغفار کرے۔" مجھے اس مقصد کے لئے استغفار کا مسنون طریقہ پوچھنا ہے۔ براہِ مہربانی، اگر ہو سکے تو ہر طریقہ کے بارے میں بتا دیا جائے۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے میت کے لیے دعاء کرنے کا حکم دیا ہے ۔ کسی بھی قسم کے الفاظ کی پابندی نہیں لگائی ۔ لہذا یہ پابندی لگانا کہ جو الفاظ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیے ہیں صرف وہی استعمال کیے جائیں بلا دلیل ہے ۔
استغفار کے کچھ الفاظ یہ ہیں :
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (ابراہیم :41)
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ (نوح :28)
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ (نوح :28)
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق