السلام علیکم ۔
کیا طاعون بھی متعدی بیماری نہیں ؟فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں فلسطین کی فتح کے بعد اسلامی لشکر کی کثیر تعداد طاعون کی وجہ سے شہید ہو گئی ، جس میں مسلمانوں کے سپہ سالار بھی شامل تھے!!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں ! طاعون کی بیماری بھی متعدی نہیں ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے : الطَّاعُونُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ
طاعون گندگی ہے جسے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا , یا تم سے پہلے لوگوں پر , لہذا جب تم سنو کہ کسی علاقہ میں وہ (طاعون کی بیماری) موجود ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقہ میں طاعون کی بیماری آ جائے اور تم وہیں ہو تو اس سے راہ فرار نہ اختیار کرتے ہوئے نہ نکلو ۔
صحیح بخاری ح 3473
کیا طاعون بھی متعدی بیماری نہیں ؟فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں فلسطین کی فتح کے بعد اسلامی لشکر کی کثیر تعداد طاعون کی وجہ سے شہید ہو گئی ، جس میں مسلمانوں کے سپہ سالار بھی شامل تھے!!
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں ! طاعون کی بیماری بھی متعدی نہیں ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے : الطَّاعُونُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ
طاعون گندگی ہے جسے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا , یا تم سے پہلے لوگوں پر , لہذا جب تم سنو کہ کسی علاقہ میں وہ (طاعون کی بیماری) موجود ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقہ میں طاعون کی بیماری آ جائے اور تم وہیں ہو تو اس سے راہ فرار نہ اختیار کرتے ہوئے نہ نکلو ۔
صحیح بخاری ح 3473
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق