صفائی نصف ایمان ہے
شیخ محترم کیا اس کی کوئی صحیح حدیث ہے کیوں کہ میں نے علماء کرام سے سنا ہے کہ صفائی ایمان میں سے ہے
حَدَّثَنَا
إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا
أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ
حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ
لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ
تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ
وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ
نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء ح ۲۲۳
ترجمہ : رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : صفائی نصف ایمان ہے , کلمہ " الحمد للہ" میزان کو بھر دیتا ہے , سبحان اللہ اور الحمد للہ دونوں مل کر آسمان وزمین کا خلا بھر دیتے ہیں , نماز نور ہے , صدقہ برھان ہے , اور صبر ضیاء ہے , اور قرآن تیرے حق میں تیرے خلاف حجت ہے , ہر شخص روزانہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے اور یا تو اسے (جہنم سے) آزاد کر دیتا ہے یا ہلاک کر لیتا ہے ۔
یاد رہے کہ ایمان کے ستر سے زائد شعبہ جات ہیں جن میں سے ایک شعبہ کا نصف حصہ " طہارت" ہے۔
شیخ محترم کیا اس کی کوئی صحیح حدیث ہے کیوں کہ میں نے علماء کرام سے سنا ہے کہ صفائی ایمان میں سے ہے
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء ح ۲۲۳
ترجمہ : رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : صفائی نصف ایمان ہے , کلمہ " الحمد للہ" میزان کو بھر دیتا ہے , سبحان اللہ اور الحمد للہ دونوں مل کر آسمان وزمین کا خلا بھر دیتے ہیں , نماز نور ہے , صدقہ برھان ہے , اور صبر ضیاء ہے , اور قرآن تیرے حق میں تیرے خلاف حجت ہے , ہر شخص روزانہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے اور یا تو اسے (جہنم سے) آزاد کر دیتا ہے یا ہلاک کر لیتا ہے ۔
یاد رہے کہ ایمان کے ستر سے زائد شعبہ جات ہیں جن میں سے ایک شعبہ کا نصف حصہ " طہارت" ہے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق