• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 20

زکوٰۃ کے لیے ایک سال کی شرط!

شیخِ محترم سونا، چاندی اور نقدی وغیرہ پر زکوٰۃ نصاب کو پہنچنے کے بعد اور ایک سال کی مدت گزرنے پر فرض ہوتی ہے یا صرف نصاب کو پہنچنا ہی شرط ہے؟ 


 سونا چاندی ونقدی کا نصاب کو پہنچنا اور سال گزرنا دونوں زکاۃ کے فرض ہونے کے لیے ضروری ہیں

اور مال مستفاد پر بھی زکاۃ ہے
مال مستفاد اس مال کو کہتے ہیں جو دوران سال حاصل ہوتا ہے ۔
یعنی
اگر کسی شخص کے پاس دس تولہ سونا ہے اور وہ اس کی زکاۃ ادا کرتا ہے ۔ پھر چند سالوں بعد زکاۃ ادا کرچکنے چھ ماہ بعد اسکے پاس مزید دس تولہ سونا جمع ہو جاتا ہے ۔ تو اس سال کے آخر پر وہ بیس تولہ سونا کی زکاۃ ادا کرے گا ۔ حالانکہ باقی دس تولہ سونا جمع ہوئے ابھی چھ ماہ ہی گزرے ہونگے ۔


 سيدنا ابوبكر صديق رضي الله عنه سال گزرنے سے قبل زکاۃ وصول نہ کیا کرتے تھے :
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُكَاتَبٍ لَهُ قَاطَعَهُ بِمَالٍ عَظِيمٍ هَلْ عَلَيْهِ فِيهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمْ يَكُنْ يَأْخُذُ مِنْ مَالٍ زَكَاةً حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ
موطا مالک بروایۃ یحیى اللیثی ح ۵۷۴
اور ابو بکر رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جو ہر اس شخص کے خلاف اعلان جنگ فرماتے تھے جو زکاۃ اسی انداز میں ادا نہ کرتا جس انداز میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے دور میں وہ زکاۃ دیتا تھا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ عَنْ اللَّيْثِ عَنَاقًا وَهُوَ أَصَحُّ
صحیح بخاری ح ۷۲۸۵
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا کہ سال گزرنے سے قبل زکاۃ واجب نہیں ہے ۔

جب بھی کوئی صحابی یہ کہے کہ :
یہ کام سنت ہے ۔
میں یہ کام صرف سنت کے مطابق ہی کروں گا ۔
میں یہ کام ویسے ہی کروں گا جس طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ۔
ہمیں اسکا حکم دیا جاتا تھا
تو وہ کام سنت رسول صلى اللہ علیہ وسلم ہی ہوتا ہے اور صحابی کا وہ عمل حکما مرفوع ہوتا ہے !


اور ہمارے زیر بحث مسئلہ میں بھی ایسے ہی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ جو کچھ یہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیا کرتے تھے میں اس میں سے ایک رسی بھی نہیں چھوڑوں گا ۔ اور ایک سال کی زکاۃ چھوڑ رہے ہیں گویا یہ بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
خوب سمجھ لیں !

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق