ابو داؤد کی ایک
حدیث ہے جس میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے خصی مینڈھے ذبح کرنے کا ذکر ہے ،
اور اسے شیخ ذبیر علی ذئی صاحب نے حسن قرار دیا ہے ، آپ سے درخواست سے کہ
آپ اپنی تحقیق اس حدیث پر پیش کر دیں کہ آپ کی تحقیق کے مطابق وہ کیوں اور
کیسے ضعیف ہے ۔ غالباً ابو داؤد جلد سوم اور حدیث نمبر 2895 ہے۔
اس میں شیخ ذبیر علی ذئی صاحب لکھتے ہیں محمد بن اسحاق کا سماع مسند احمد کی حدیث میں ثابت ہے اور اس کے شواہد ترمزی میں بھی ہیں۔ حالانکہ محمد بن اسحاق مدلس راوی ہے مگر اس کا سمیع دوسری حدیث مسند احمد میں ثابت ہے ؟
یہ روایت محمد بن اسحاق کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے , اور جہاں اس نے تحدیث وسماع کی صراحت کی ہے وہاں " خصی" کے الفاظ نہیں ہیں ۔
خوب سمجھ لیں !
اس میں شیخ ذبیر علی ذئی صاحب لکھتے ہیں محمد بن اسحاق کا سماع مسند احمد کی حدیث میں ثابت ہے اور اس کے شواہد ترمزی میں بھی ہیں۔ حالانکہ محمد بن اسحاق مدلس راوی ہے مگر اس کا سمیع دوسری حدیث مسند احمد میں ثابت ہے ؟
الجواب بعون الوہاب
یہ روایت محمد بن اسحاق کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے , اور جہاں اس نے تحدیث وسماع کی صراحت کی ہے وہاں " خصی" کے الفاظ نہیں ہیں ۔
خوب سمجھ لیں !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق