ایک درخت کی دلکش ترنم:
امام اوزاعی رحمہ اللہ حضرت عبدہ بن ابی لبابہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے پھل زبرجد، یاقوت اور لؤلؤ کے ہیں اللہ تعالیٰ ہوا کوچلائیں گے تووہ درخت حرکت میں آئے گا اور اس کی ایسی ایسی حسین آوازیں سننے کوملیں گی کہ اس سے زیادہ لذیذ کوئی آواز نہیں سنی ہوگی۔
(حادی الارواح:۳۲۷۔ صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۵۹)
أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان بن قيس البغدادي الأموي القرشي المعروف بابن أبي الدنيا (المتوفى: 281هـ)[/font][/b] نے اپنی کتاب صفة الجنة وما أعد الله لأهلها من النعيم ج ۱ ص ۱۸۹(۲۶۲) میں بایں طور ذکر فرمایا ہے :
حدثنا أبو مسلم الحراني حدثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً ثَمَرُهَا زَبَرْجَدٌ وَيَاقُوتٌ وَلُؤْلُؤٌ فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا فَتُصَفِّقُ فَيُسْمَعُ لها أصواتا لم يسمع الخلائق أَلَذُّ مِنْهَا.
یہ روایت قابل احتجاج نہیں کیونکہ اسکے راوی عبدة بن أبى لبابة الأسدى الغاضرى مولاهم ، أبو القاسم البزاز الكوفى تابعی ہیں اور تابعین کے اقوال وافعال دین میں باتفاق امت حجت نہیں ہوتے ۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ حضرت عبدہ بن ابی لبابہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے پھل زبرجد، یاقوت اور لؤلؤ کے ہیں اللہ تعالیٰ ہوا کوچلائیں گے تووہ درخت حرکت میں آئے گا اور اس کی ایسی ایسی حسین آوازیں سننے کوملیں گی کہ اس سے زیادہ لذیذ کوئی آواز نہیں سنی ہوگی۔
(حادی الارواح:۳۲۷۔ صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۲۵۹)
الجواب بعون الوہاب
أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان بن قيس البغدادي الأموي القرشي المعروف بابن أبي الدنيا (المتوفى: 281هـ)[/font][/b] نے اپنی کتاب صفة الجنة وما أعد الله لأهلها من النعيم ج ۱ ص ۱۸۹(۲۶۲) میں بایں طور ذکر فرمایا ہے :
حدثنا أبو مسلم الحراني حدثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً ثَمَرُهَا زَبَرْجَدٌ وَيَاقُوتٌ وَلُؤْلُؤٌ فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا فَتُصَفِّقُ فَيُسْمَعُ لها أصواتا لم يسمع الخلائق أَلَذُّ مِنْهَا.
یہ روایت قابل احتجاج نہیں کیونکہ اسکے راوی عبدة بن أبى لبابة الأسدى الغاضرى مولاهم ، أبو القاسم البزاز الكوفى تابعی ہیں اور تابعین کے اقوال وافعال دین میں باتفاق امت حجت نہیں ہوتے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق