• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، يونيو 1

صدقہ کیسے , کتنا اور کسے دیا جائے ؟؟


ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر میں‌ اپنا صدقہ دینا چاہوں تو کس طرح‌دے سکتا ہوں اور کن لوگوں‌کو دے سکتا ہوں۔
کچھ علم والے بھائیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے جسم و جان کا صدقہ کسی غیر مسلم کو بھی دے سکتے ہو۔ کیا یہ صحیح ہے؟

پرندوں کے لیے کچھ ڈال کر رکھ دینا کیا یہ صدقہ ہوتا ہے؟

کچھ لوگ کہتے ہیں‌کہ گوشت خرید کر اُسے چھت پر ڈال دیں کوئی بھی پرندہ جس میں‌کوا چیل وغیرہ شامل ہیں کھا لیتے ہیں‌ اس طرح بھی صدقہ دیا جا سکتا ہے کیا ایسے صدقہ دیا جا سکتا ہے؟

اور ہمیں کیا کہ جن کو ہم صدقہ دے رہے ہیں اُس کا عقیدہ کیسا ہے تو کیا صدقہ دینے کے لیے مومن کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

کیا میں‌اپنے گھر میں‌کام کرنے والے/والی کو پیسے دے کر صدقہ دے سکتا ہوں؟

اور صدقہ کتنا دینا چاہیے؟


 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


صدقہ صرف اور صرف مؤمن وموحد شخص کو ہی دیا جاسکتا ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ
یقینا اللہ تعالى نے ان (اہل ایمان) پر انکے مالوں میں صدقہ فرض کیا ہے جو ان میں سے اغنیاء سے وصول کرکے انہی میں سے فقراء کو دیا جائے گا ۔
صحیح بخاری کتاب الزکاۃ باب وجوب الزکاۃ ح ۱۳۹۵
صدقہ وزکاۃ کے مصارف صرف آٹھ ہیں جنکا بیان اللہ تعالى سورہ توبہ کی آیت نمبر ساٹھ میں کیا ہے :
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
صدقات صرف اور صرف فقراء , مساکین , صدقات پر کام کرنے والوں , نو مسلموں کی تألیف قلب , مسلمان قیدیوں کی رہائی , غارمین , مجاہدین اور مسافرین کے لیے ہیں , یہ اللہ تعالى کی طرف سے عائد کردہ فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑا حکمت والا ہے ۔

مؤمن کون ہوتا ہے اسکی پہچان کے لیے آپ یہ بیانات بغور سماعت فرمائیں :
http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=87
http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=394
http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=1301
http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=74
http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=91
  نفلی صدقہ کی مقدار متعین نہیں ہے , اور فرضی صدقہ یعنی زکاۃ عشر فطرانہ وغیرہ کی مقدار متعین ہے ۔


author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق