پاکستان کے لحاظ سے بیت الخلا کس رخ بنانا چاہیے؟
کیا سمت متعین کرنے کا کوئی شرعی جواز ھے؟ کچھ لوگ شمال کی طرف منہ کرنا بھی معیوب خیال کرتے ھیں؟
چونکہ پاکستان کے حساب سے قبلہ مغرب کی جانب ہے لہذا بیت الخلاء کا رخ شمالا جنوبا ہونا چاہیے ۔
رہا شمال کی طرف منہ کرنے سے لوگوں کا احتراز کرنا تو یہ قطبی ستارے کی وجہ سے ہے جسکی اہل تصوف کے ہاں ایک خاص اہمیت ہے ۔ جبکہ دین اسلام سے اسکے تقدس کا کوئی تصور ہی نہیں ۔
کیا سمت متعین کرنے کا کوئی شرعی جواز ھے؟ کچھ لوگ شمال کی طرف منہ کرنا بھی معیوب خیال کرتے ھیں؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع
چونکہ پاکستان کے حساب سے قبلہ مغرب کی جانب ہے لہذا بیت الخلاء کا رخ شمالا جنوبا ہونا چاہیے ۔
رہا شمال کی طرف منہ کرنے سے لوگوں کا احتراز کرنا تو یہ قطبی ستارے کی وجہ سے ہے جسکی اہل تصوف کے ہاں ایک خاص اہمیت ہے ۔ جبکہ دین اسلام سے اسکے تقدس کا کوئی تصور ہی نہیں ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق