غیر مسلم کی تیماداری کرنے کا کیا شرعی طریقہ ہے؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
غیر مسلم کی تیمار داری کرنا سنت ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهْوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنْ النَّارِ
ایک یہودی بچہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا جب وہ بیمار ہوا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم اسکی تیمار داری کرنے کے لیے اسکے گھر تشریف لے گئے اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی , وہ بچہ مسلمان ہوگیا ۔ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اسکے گھر سے نکلے " تمام تر تعریفات اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے آگ سے بچا لیا"۔
صحیح بخاری کتاب الجنائز باب إذا أسلم الصبی فمات فہل یصلى علیہ 1356
اس حدیث مبارکہ میں غیر مسلم کی تیمار داری کا جواز اور طریقہ کار دونوں کی وضاحت ہوگئی ہے ۔
کہ اسکے لیے شفاء اور ہدایت کی دعاء کی جائے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دی جائے ۔
خوب سمجھ لیں ۔
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
غیر مسلم کی تیمار داری کرنا سنت ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهْوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنْ النَّارِ
ایک یہودی بچہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا جب وہ بیمار ہوا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم اسکی تیمار داری کرنے کے لیے اسکے گھر تشریف لے گئے اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی , وہ بچہ مسلمان ہوگیا ۔ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اسکے گھر سے نکلے " تمام تر تعریفات اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے آگ سے بچا لیا"۔
صحیح بخاری کتاب الجنائز باب إذا أسلم الصبی فمات فہل یصلى علیہ 1356
اس حدیث مبارکہ میں غیر مسلم کی تیمار داری کا جواز اور طریقہ کار دونوں کی وضاحت ہوگئی ہے ۔
کہ اسکے لیے شفاء اور ہدایت کی دعاء کی جائے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دی جائے ۔
خوب سمجھ لیں ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق