آپ نے ایک سوال کے جواب میں خود کشی کرنے
والے کے لیے دعائے مغفرت اور نماز جنازہ کو جائز قرار دیا ہے لیکن صحیح بخاری میں ایک
روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل کفر ہے اور اسکا مرتکب ابدی اور دائمی جہنمی ہے
۔
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب واليه المرجع والمآب
صحیح بخاری کی جس روایت کی طرف آپ نے اشارہ
فرمایا ہے وہ کچھ یوں ہے :
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب حدثنا خالد بن الحارث حدثنا شعبة عن سليمان
قال سمعت ذكوان يحدث عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من
تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم يتردى فيه خالدا مخلدا فيها أبدا ومن تحسى سما
فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا ومن قتل نفسه بحديدة
فحديدته في يده يجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا
(صحیح البخاری کتاب الطب باب شرب السم
والدواء بہ وبما یخاف منہ والخبیث ح 5778)
لیکن اس روایت میں یہ حکم تہدیدی ہے
جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ
جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا
عَظِيمًا ( النساء :93)
نیز اس آیت میں بھی ہے :
وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ
وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا (الجن : 23)
اس آیت میں تو محض معصیت کی بات ہے خوہ
وہ صغیرہ ہو یا کبیرہ !
تو کیا کسی بھی معصیت کی بناء پر کوئی
بھی شخص ابدی اور دائمی جہنمی ہو جائے گا ؟؟؟
اور کیا کسی بھی معصیت کی بناء پر کوئی
بھی شخص کافر اور مرتد اور خارج از ملت اسلام ہو جائے گا ؟؟؟
فما ذا جوابکم فہو جوابنا !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق