• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، يونيو 20

کیا مرد عورتوں سے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ؟

کیا مرد حضرات خواتین سے علم حاصل کرسکتی ہیں ؟ 


 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب


جی ہاں مرد خواتین سے علم حاصل کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ حدود اللہ کو قائم رکھیں ۔
نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپکی ازواج سے آپکی حیات طیبہ میں ہی علم حاصل کرتے تھے اسی لیے اللہ تعالى نے قرآن مجید فرقان حمید میں حصول علم کے لیے یہ اصول متعین فرما دیا وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ الأحزاب 53 

اور جب تم ان سے کسی چیز کے بارہ میں سوال کرو تو پردے کی اوٹ میں کیا کرو , یہ طریقہ تمہارے اور انکے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے ۔
اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تو امہات المؤمنین سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا علم حاصل کرنا اظہر من الشمس ہے
اور پھر یہ سلسلہ یہں نہیں رکا بلکہ تابعین تبع تابعین بلکہ آج تک جاری وساری ہے ۔
بڑے بڑے محدثین نے خواتین سے کسب فیض کیا جن میں امام بخاری اور امام شافعی جیسے عظیم نام بھی شامل ہیں ۔
اور کتب احادیث کا مطالعہ کرنے والا احادیث کی اسانید میں بے شمار خواتین کے نام دیکھ سکتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد بھی عورتوں کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ تواتر کی حدوں کو بھی پار کر چکا ہے
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق