کیا عورت فتوى دے سکتی ہے ؟؟؟
جی ہاں عورت فتوى دے سکتی ہے۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہی امہات المؤمنین فتوى صادر فرمایا کرتی تھیں اور بسا اوقات خود نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم انہیں فتوى دینے کا کہتے تھے مثلا
ایک عورت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل حیض کے بارہ میں دریافت کرنے کے لیے آئی تو آپ نے اسے طریقہ کارسمجھایا اور کہا کہ خوشبودار روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کر لیکن اسے اس بات کی سمجھ نہ آئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے گئیں اور سمجھایا کہ اسے خون والی جگہ پر لگائے
سنن نسائی کتاب الطہارۃ باب ذکر العمل فی الغسل من الحیض ح251
تو یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فتوى کی توضیح میں فتوى دینے کی تقریری رخصت ہے ۔
اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور کے بعد بھی امہات المؤمنین اور دیگر صحابیات فتاوى صادر فرماتی تھیں اور ان میں سے مشہور مشہور مفتیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن القیم نے مکثرات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا متوسطات میں أم سلمہ رضی اللہ عنہا اور مقلات میں صفیہ , حفصہ , أم حبیبہ اور أم عطیہ رضی اللہ عنہن اجمعین کا نام لیا ہے "إعلام الموقعين" (1/12، 13)
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
جی ہاں عورت فتوى دے سکتی ہے۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہی امہات المؤمنین فتوى صادر فرمایا کرتی تھیں اور بسا اوقات خود نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم انہیں فتوى دینے کا کہتے تھے مثلا
ایک عورت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل حیض کے بارہ میں دریافت کرنے کے لیے آئی تو آپ نے اسے طریقہ کارسمجھایا اور کہا کہ خوشبودار روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کر لیکن اسے اس بات کی سمجھ نہ آئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے گئیں اور سمجھایا کہ اسے خون والی جگہ پر لگائے
سنن نسائی کتاب الطہارۃ باب ذکر العمل فی الغسل من الحیض ح251
تو یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فتوى کی توضیح میں فتوى دینے کی تقریری رخصت ہے ۔
اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور کے بعد بھی امہات المؤمنین اور دیگر صحابیات فتاوى صادر فرماتی تھیں اور ان میں سے مشہور مشہور مفتیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن القیم نے مکثرات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا متوسطات میں أم سلمہ رضی اللہ عنہا اور مقلات میں صفیہ , حفصہ , أم حبیبہ اور أم عطیہ رضی اللہ عنہن اجمعین کا نام لیا ہے "إعلام الموقعين" (1/12، 13)
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق