مجھے یہ پوچھنا ہے کہ ایک عام مسلمان جس نے دین کا کوئ باقاعدہ علم حاصل نہیں کیا اور جس کا علم صرف فرائض کی حد تک ہے، کیا اس پر ان احکامات کا اطلاق ہوتا ہے جو دین کی دعوت سے متعلق ہیں؟ مثلاً "بلغوا عنی ولو آیۃ" اور اس قسم کی دوسری احادیث؟
ایسے شخص کو اگر کچھ معلومات ہوں گی بھی تو چونکہ اس کا علم مکمل نہیں ہے لہذا وہ صحیح علم کو درست جگہ پر استعمال نہیں کر سکے گا جس کے نتائج اچھے برامد نہیں ہوں گے۔ پھر کیا وہ اس بات پر گناہ گار ہوگا کہ علم کو آگے نہیں پہنچایا؟
جزاک اللہ خیرا
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
جو حدیث آپ نے کوٹ کی ہے اسکے مطابق تو اگر صرف ایک آیت کا بھی علم ہے تو اسے آگے پہنچانا فرض ہے ۔
اس میں مکمل علم کی کوئی قید نہیں ہے ۔
اگر یہ قید لگا دی جاتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے اکثر لوگ احادیث نہ بیان کر سکتے ۔
کیونکہ بہت سے افراد ایسے تھے جو صرف چند دن نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں ۔ اور انہوں نے کسی ایک چیز کو بغور سمجھا ہے ۔
مثلا سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں اسلام قبول کرتے ہیں اور انہوں نے نماز کو بغور دیکھا اور اچھی طرح سمجھا ۔
یہی وجہ ہے کہ ان سے نماز کے متعلق کے ہی احادیث مروی ہیں ۔ جبکہ دیگر احکامات سے متعلق ان سے کوئی خاص احادیث مروی نہیں ہیں ۔
الغرض جسے جس بھی چیز کا علم ہو وہ اسے آگے پھیلائے ۔
ایسے شخص کو اگر کچھ معلومات ہوں گی بھی تو چونکہ اس کا علم مکمل نہیں ہے لہذا وہ صحیح علم کو درست جگہ پر استعمال نہیں کر سکے گا جس کے نتائج اچھے برامد نہیں ہوں گے۔ پھر کیا وہ اس بات پر گناہ گار ہوگا کہ علم کو آگے نہیں پہنچایا؟
جزاک اللہ خیرا
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
جو حدیث آپ نے کوٹ کی ہے اسکے مطابق تو اگر صرف ایک آیت کا بھی علم ہے تو اسے آگے پہنچانا فرض ہے ۔
اس میں مکمل علم کی کوئی قید نہیں ہے ۔
اگر یہ قید لگا دی جاتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے اکثر لوگ احادیث نہ بیان کر سکتے ۔
کیونکہ بہت سے افراد ایسے تھے جو صرف چند دن نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں ۔ اور انہوں نے کسی ایک چیز کو بغور سمجھا ہے ۔
مثلا سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں اسلام قبول کرتے ہیں اور انہوں نے نماز کو بغور دیکھا اور اچھی طرح سمجھا ۔
یہی وجہ ہے کہ ان سے نماز کے متعلق کے ہی احادیث مروی ہیں ۔ جبکہ دیگر احکامات سے متعلق ان سے کوئی خاص احادیث مروی نہیں ہیں ۔
الغرض جسے جس بھی چیز کا علم ہو وہ اسے آگے پھیلائے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق