پاکستان کے سرکاری اداروں میں اکثر جائز کام کے لیے بھی رشوت مانگی جاتی
ہے. مثال کے طور پر اگر کوئی سرکاری ملازم ریٹائرڈ ہوتا ہے تو اس کو اپنے
جائز واجبات کے حصول کے لیے لازمی رشوت دینا پڑتی ہے. بصورت دیگر اس کے
واجبات کا ملنا تقریبا نا ممکن ہوتا ہے. اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں
ہیں. جن کا واسطہ سرکاری دفاتر سے وہ ان چيزوں کو بخوبی جانتے ہیں.
کیا اس صورت حال میں یہ عمل جائز ہو سکتا ہے؟ اگر نہی تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
رشوت اسے نہیں کہتے !
بلکہ رشوت تو کسی دوسرے کا حق مارنے کے لیے کچھ دینے کا نام ہے ۔
اپنا حق حاصل کرنے کی خاطر ظالم لوگوں کو مجبورا جو کچھ دینا پڑتا ہے اسے جگا ٹیکس کہا جاتا ہے ۔ جس میں صرف لینے والا گنہگار ہوتا ہے , دینے والا نہیں !
کیا اس صورت حال میں یہ عمل جائز ہو سکتا ہے؟ اگر نہی تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
رشوت اسے نہیں کہتے !
بلکہ رشوت تو کسی دوسرے کا حق مارنے کے لیے کچھ دینے کا نام ہے ۔
اپنا حق حاصل کرنے کی خاطر ظالم لوگوں کو مجبورا جو کچھ دینا پڑتا ہے اسے جگا ٹیکس کہا جاتا ہے ۔ جس میں صرف لینے والا گنہگار ہوتا ہے , دینے والا نہیں !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق