محترم میرے سامنے ماہنامہ الحدیث شمارہ :۱۰۱ ہے اس میں جناب حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اجماع سے ثابت کیا ہے کہ صرف موٹی جرابوں پر مسح جائز ہے ؟؟؟
اس کے متعلق چند سوالات جنم لیتے ہیں ان پر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں
سوال ۱:یہ اجماع کہاں ہوا اور کب ہوا کتنے لوگوں اس اجماع میں شریک تھے ؟؟
سوال ۲:موٹی اور بریک کا فرق کیا قرآن وحدیث میں موجود ہے ؟جس کے لئے اجماع کو دلیل بنایا گیا ؟
سوال ۳:کسی کے لفظ اجماع لکھ دینے سے وہ اجماع حقیقت میں ہو جاتا ہے خواہ وہ قرآن و حدیث کے خلاف ہی ہو ؟
سوال ۴؟ہم کس کو بریک کہیں گے ؟؟؟کتنی مقدار میں بریک ؟اس کی حد بھی اجماع نے مقرر کی ہے ؟؟!!
سوال ۵:راجح مسئلہ کیا ہے موٹی اور بریک جرابوں کے بارے میں قرآن و حدیث سے جواب دیں ؟
سوال۶:جو اہل علم اجماع کو حجت مانتے ہیں ان کے بارے میں کوئی علمی رد دستیاب کریں ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
۱۔ اس اجماع کے بارہ میں فضیلۃ الشیخ مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں :
ابن حزم الاندلسی (متوفى ۴۵۶ھ) نے صحابہ کرام کے بارہ میں لکھا ہے " لا مخالف لهم من الصحابة ممن يجيز المسح " جو صحابہ (جرابوں پر) مسح کو جائز سمجھتے تھے , صحابہ میں انکا کوئی مخالف نہیں ۔ (المحلى ۸۷/۲ مسئلہ ۲۱۲)
ابن قدامہ الحنبلی نے لکھا ہے : اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا , لہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے ۔ (المغنی ۱۸۱/۱ مسئلہ : ۴۲۶)
انتہى ۔ (مجلہ الحدیث شمارہ ۱۰۱ ص ۴۳)
انکی اس عبارت میں آپکے سوال کا جواب موجود ہے کہ اجماع کب ہوا ؟ یعنی انکے زعم میں اجماع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ ہوا تھا !!!
لیکن اجماع کی یہ دلیل دعوى سے اعم ہے , یعنی دعوى اخص ہے اور دلیل اعم , دعوى ہے کہ "موٹی جرابوں" پر مسح.... الخ جبکہ دلیل ہے "جرابوں" پر مسح ....الخ ۔ فتدبر !
گویا دلیل موٹی اور باریک دونوں قسم کی جرابوں کو شامل ہے , جبکہ دعوى صرف موٹی جرابوں کے بارہ میں ہے ۔
اور پھر موصوف اس دلیل سے باریک جرابوں کو خارج کرنے کے لیے ایک اور دلیل پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
ابن القطان الفاسی (المتوفى ۶۲۸ھ) نے بحوالہ کتاب النیر للقاضی ابی العباس احمد بن محمد بن صالح المنصوری(المتوفى ۳۵۰ھ تقریبا) بطور جزم لکھا ہے " وأجمع الجميع أن الجوربين إذا لم يكونا كثيفين لم يجز المسح عليهما" اور سب کا اس پر اجماع ہے کہ اگر جرابیں موٹی نہ ہوں تو ان پر مسح جائز نہیں ۔
لیکن یہ بھی محض دعوى ہی ہے اور بلا دلیل ہے !!!
کیونکہ اجماع کے دعوى سے اجماع ثابت نہیں ہوتا ! ۔ اور پھر یہ اجماع سابقہ اجماع کے ایک گونہ مخالف بھی ہے ! لہذا سابقہ اجماع یعنی اجماع صحابہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے یہ اجماع مردود ہے !
(یاد رہے کہ ہمارے نزدیک اجماع حجت ہی نہیں ہے اور نہی اسکی حجیت پر کتاب وسنت کی کوئی دلیل ہے !)
پھر موصوف لکھتے ہیں :
اگر کوئی کہے کہ امام ابن المنذر نے لکھا ہے "ایک گروہ نے جرابوں پر مسح کا انکار کیا ہے اور اسے ناپسند کیا ہے ۔ ان میں مالک بن انس , اوزاعی , شافعی اور نعمان (ابو حنیفہ) ہیں اور عطاء (بن ابی رباح) کا یہی مذہب اور آخری قول ہے ۔ مجاہد , عمرو بن دینار اور حسن بن مسلم اسی کے قائل ہیں ۔
تو عرض ہے کہ جس طرح مذکورہ بالا محدثین عظام و فقہائے کرام سے سے جرابوں کا انکار صحیح متصل سند کے ساتھ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے مردود کے حکم میں ہے تو اجماع ثانی کے دعوى میں "جمیع" سے باریک جرابوں کا انکار بھی صحیح متصل سند کے ساتھ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے مردود کے حکم میں ہے۔ فتدبر !
۲۔ موٹی اور باریک کا فرق نہ کتاب وسنت میں ہے اور نہ ہی مزعومہ اجماع میں ہے ! کما بینا۔
۳۔ کسی کے اجماع کا دعوى کر لینے سے اجماع نہیں ہوتا ! ۔ بلکہ اجماع کے اکثر دعویداران "لا اعلم خلافا " کہنے کے بجائے اجماع کا دعوى کر بیٹھتے ہیں جیسا کہ موصوف کے پیش کردہ اجماع صحابہ کی حالت ہے کہ ابن حزم نے تو صحابہ کرام کے بارہ میں لکھا ہے " لا مخالف لهم من الصحابة ممن يجيز المسح " جو صحابہ (جرابوں پر) مسح کو جائز سمجھتے تھے , صحابہ میں انکا کوئی مخالف نہیں ۔ (المحلى ۸۷/۲ مسئلہ ۲۱۲)
اس پر ابن قدامہ الحنبلی نے اجماع کا دعوى داغ دیا اور کہہ دیا : اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا , لہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے ۔ (المغنی ۱۸۱/۱ مسئلہ : ۴۲۶)
یعنی اختلاف کا علم نہ ہونے کا نام اس طبقہ کے ہاں اجماع بن گیا ہے !!! فاللہ المستعان۔
۴۔ جب اجماع ہوا ہی نہیں تو اس فرق پر اجماع کیسا ؟؟؟
۵۔ راجح مسئلہ یہی ہے کہ جس چیز پر لفظ جراب صادق آتا ہے اس پر مسح کرنا جائز ہے ۔ خواہ وہ باریک ہوں یا موٹی صحیح وسالم ہوں یا پھٹی ہوئی ۔
اور اجماع کسی بھی چیز کے لیے دلیل نہیں بنتا اور بقول ابن رشد :
وَأَمَّا الْإِجْمَاعُ فَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى أَحَدِ هَذِهِ الطُّرُقِ الْأَرْبَعَةِ، إِلَّا أَنَّهُ إِذَا وَقَعَ فِي وَاحِدٍ مِنْهَا، وَلَمْ يَكُنْ قَطْعِيًّا، نَقَلَ الْحُكْمَ مِنْ غَلَبَةِ الظَّنِّ إِلَى الْقَطْعِ. وَلَيْسَ الْإِجْمَاعُ أَصْلًا مُسْتَقِلًّا بِذَاتِهِ مِنْ غَيْرِ إِسْنَادٍ إِلَى وَاحِدٍ مِنْ هَذِهِ الطُّرُقِ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ لَكَانَ يَقْتَضِي إِثْبَاتَ شَرْعٍ زَائِدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ لَا يَرْجِعُ إِلَى أَصْلٍ مِنَ الْأُصُولِ الشَّرْعِيَّةِ.
یہ دنوں قسمیں اجماع نہیں ہیں ۔ بلکہ کتاب وسنت ہی ہیں ۔ اور ان کے حجت ہونے کی وجہ کتاب وسنت ہے نہ کہ اجماع !
کتنے ہی ایسے مسائل ہیں جو کتاب وسنت سے ثابت ہیں لیکن ان پر اجماع نہیں ۔ پھر بھی وہ حجت ہی ہیں ۔
یعنی
کتاب وسنت مین عبارۃ , دلالۃ , اشارۃ , اقضاء , التزاما , دلالۃ مذکور کوئی بھی مسئلہ کسی بھی قسم کے نام نہاد اجماع کا محتاج نہیں ہے ۔
اقتباس:
موصوف کی ذکر کردہ تمام مثالیں دوسری قسم میں داخل ہیں جو کہ اجماع نہیں !
۱۔ عدم شذوذ کی شرط بھی کتاب اللہ سے ثابت ہے , اللہ تعالى کے فرمان " ان جاء کم فاسق بنبإ فتبینوا" میں کلمہ "فتبینوا" اس پر دلالت کرتا ہے ۔
۲۔ نماز میں قہقہ لگانے سے نماز کا ٹوٹنا و باطل ہونا کتاب اللہ سے ثابت ہے ۔ اللہ تعالى کے فرمان " وقوموا للہ قانتین" میں قانتین کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے ۔ اسی طرح کلام سے ممانعت والے تمام تر حدیثی دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں ۔ کیونکہ قہقہہ کلام ہی ہے ۔ یاد رہے کہ کلام ہر وہ چیز ہے جس سے مراد سمجھ آجائے اور قہقہہ ہنسے والے کی مراد یعنی خوشی پر دلالت کرتا ہے ۔
تنبیہ بلیغ :
قہقہ لگانے سے نماز کے باطل ہونے پر اجماع نہیں ہے !
کیونکہ
احناف کے نزدیک فساد اور بطلان میں فرق ہے ۔ جبکہ جمہور کے نزدیک فساد اور بطلان ایک ہی چیز ہیں ۔
اور احناف کے نزدیک قہقہہ لگأنے سے نماز فاسد ہوتی ہے , باطل نہیں ہوتی !
۳۔ نومولود کے کان میں اذان دینا جامع ترمذی کی حسن روایت سے ثابت ہے ۔ کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے کان میں اذان دی تھی
۴۔ امام کا جہری نمازوں جہرا تکبیرات کہنا ان نمام تر روایات سے ثابت ہے جن میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز اور امام کی اقتداء کے مسائل ذکر ہیں ۔ اور مقتدیوں کا سرا تکبیرات کہنا اللہ تعالى کے فرمان " واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ودون الجہر من القول " سے ثابت ہے ۔
اسکے بعد موصوف نے اجماع کی حجیت کو ثابت کرنے کے لیے صرف اور صرف دو دلائل دیے ہیں ایک کتاب اللہ سے اور ایک سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جبکہ دونوں دلائل ہی اجماع کی حجیت کے خلاف ہیں !
ملاحظہ فرمائیں :
(وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۘ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَؕ وَسَآءَتْ مَصِیْراً)
اورجو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد ، رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو جدھر وہ پھرتا ہے ہم اُسے اُسی طرف پھیر دیتے ہیں اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ (جہنم) برا ٹھکانہ ہے۔( النسآء:۱۱۵)
یہاں سبیل مؤمنین سے موصوف اجماع مراد لے رہے ہیں جبکہ سبیل مؤمنین رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی موجود تھا اور اس وقت یہ نام نہاد اجماع یعنی کتاب وسنت کی کسی بھی نص سے مسئلہ استنباط کیے بغیر مجتہدین کا اجماع موجود نہ تھا ۔
یعنی یہ آیت کریمہ تو واضح کر رہی ہے کہ حجت وشریعت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ اس دور کے مؤمنین صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ہی مسائل اخذ کرتے تھے ۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ سبیل مؤمنین اجماع نہیں بلکہ کتاب وسنت سے استنباط واجتہاد ہے !
اور موصوف نے "سبیل المؤمنین" کا معنى "اجماع" ثابت کرنے کے لیے ایسے قیل وقال کا سہارا لیا ہے جو خود حجت نہیں ہیں ۔
جبکہ اسی لفظ کا معنى "رجوع إلى الکتاب والسنہ" اسی آیت کی دلالت میں موجود ہے ۔
پھر اسکے بعد موصوف اپنی دوسری دلیل کے طور پر لکھتے ہیں :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ اُمَّتِیْ عَلٰی ضَلَالَۃٍ اَبَداً،وَیَدُاللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ))اللہ میری اُمت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے ۔
(المستدرک الحاکم۱؍۱۱۶ح۳۹۹ وسندہ صحیح)
اور یہی حدیث تیسری دلیل کے طور پر دوسرے مصدر اور الفاظ کے فرق سے یوں بیان کرتے ہیں :
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((لَنْ تَجْتَمِعَ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلَا لَۃِ اَبَداً فَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ یَدَ اللہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ ))
میری اُمت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی ، لہٰذا تم جماعت (اجماع) کو لازم پکڑو، کیونکہ یقیناً اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔
(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۲؍۴۴۷ح۱۳۶۲۳)
اس روایت سے کلمہ " لن تجتمع أمتى على ضلالۃ " یعنی میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی سے اجماع کو ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ۔ جبکہ یہ حدیث تو اس بات دلالت کررہی ہے کہ امت جمع نہیں ہوگی ! یعنی اجماع ہوگا ہی نہیں !!!
اور آج تک اجماع اپنی شروط کے ساتھ کبھی ثابت نہیں ہوا ہے !
اور جن باتوں کو یہ اجماع کہہ کر اجماع کا وجود ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ سب کتاب وسنت سے ثابت ہیں نہ کہ اجماع سے , جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے ۔
ان دو دلائل کے بعد موصوف کے پیش کردہ سارے دلائل ہی مردود ہیں کیونکہ وہ موقوفات , مقطوعات , اقوال ائمہ وغیرہ وغیرہ ہیں جو کہ خود حجت نہیں ہیں ۔ اور جو چیز خود ہی حجت نہ ہو اس سے کسی دوسری چیز کی حجیت کیسے ثابت ہوسکتی ہے ۔
چند لطائف :
آج تک اجماع کی تعریف پر بھی اجماع نہیں ہوسکا ! ,اسکی حجیت تو بہت دور کی بات ہے ۔
اسی طرح اجماع کی شروط پر بھی اجماع نہیں ہوسکا
اسی طرح موصوف نے اجماع کی جو تین اقسام بیان کی ہیں ان پر بھی اجماع نہیں ہے
اسی طرح موصوف کی ذکر کردہ پہلی دو قسموں کو اجماع مصطلح میں داخل کرنے پر بھی اجماع نہیں ۔
اس کے متعلق چند سوالات جنم لیتے ہیں ان پر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں
سوال ۱:یہ اجماع کہاں ہوا اور کب ہوا کتنے لوگوں اس اجماع میں شریک تھے ؟؟
سوال ۲:موٹی اور بریک کا فرق کیا قرآن وحدیث میں موجود ہے ؟جس کے لئے اجماع کو دلیل بنایا گیا ؟
سوال ۳:کسی کے لفظ اجماع لکھ دینے سے وہ اجماع حقیقت میں ہو جاتا ہے خواہ وہ قرآن و حدیث کے خلاف ہی ہو ؟
سوال ۴؟ہم کس کو بریک کہیں گے ؟؟؟کتنی مقدار میں بریک ؟اس کی حد بھی اجماع نے مقرر کی ہے ؟؟!!
سوال ۵:راجح مسئلہ کیا ہے موٹی اور بریک جرابوں کے بارے میں قرآن و حدیث سے جواب دیں ؟
سوال۶:جو اہل علم اجماع کو حجت مانتے ہیں ان کے بارے میں کوئی علمی رد دستیاب کریں ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
۱۔ اس اجماع کے بارہ میں فضیلۃ الشیخ مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں :
ابن حزم الاندلسی (متوفى ۴۵۶ھ) نے صحابہ کرام کے بارہ میں لکھا ہے " لا مخالف لهم من الصحابة ممن يجيز المسح " جو صحابہ (جرابوں پر) مسح کو جائز سمجھتے تھے , صحابہ میں انکا کوئی مخالف نہیں ۔ (المحلى ۸۷/۲ مسئلہ ۲۱۲)
ابن قدامہ الحنبلی نے لکھا ہے : اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا , لہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے ۔ (المغنی ۱۸۱/۱ مسئلہ : ۴۲۶)
انتہى ۔ (مجلہ الحدیث شمارہ ۱۰۱ ص ۴۳)
انکی اس عبارت میں آپکے سوال کا جواب موجود ہے کہ اجماع کب ہوا ؟ یعنی انکے زعم میں اجماع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ ہوا تھا !!!
لیکن اجماع کی یہ دلیل دعوى سے اعم ہے , یعنی دعوى اخص ہے اور دلیل اعم , دعوى ہے کہ "موٹی جرابوں" پر مسح.... الخ جبکہ دلیل ہے "جرابوں" پر مسح ....الخ ۔ فتدبر !
گویا دلیل موٹی اور باریک دونوں قسم کی جرابوں کو شامل ہے , جبکہ دعوى صرف موٹی جرابوں کے بارہ میں ہے ۔
اور پھر موصوف اس دلیل سے باریک جرابوں کو خارج کرنے کے لیے ایک اور دلیل پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
ابن القطان الفاسی (المتوفى ۶۲۸ھ) نے بحوالہ کتاب النیر للقاضی ابی العباس احمد بن محمد بن صالح المنصوری(المتوفى ۳۵۰ھ تقریبا) بطور جزم لکھا ہے " وأجمع الجميع أن الجوربين إذا لم يكونا كثيفين لم يجز المسح عليهما" اور سب کا اس پر اجماع ہے کہ اگر جرابیں موٹی نہ ہوں تو ان پر مسح جائز نہیں ۔
الاقناع فی مسائل الاجماع ج ۱ ص۲۲۷ فقرہ :۳۵۱
انتہی ۔ (مجلہ الحدیث شمارہ ۱۰۱ ص ۴۳)لیکن یہ بھی محض دعوى ہی ہے اور بلا دلیل ہے !!!
کیونکہ اجماع کے دعوى سے اجماع ثابت نہیں ہوتا ! ۔ اور پھر یہ اجماع سابقہ اجماع کے ایک گونہ مخالف بھی ہے ! لہذا سابقہ اجماع یعنی اجماع صحابہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے یہ اجماع مردود ہے !
(یاد رہے کہ ہمارے نزدیک اجماع حجت ہی نہیں ہے اور نہی اسکی حجیت پر کتاب وسنت کی کوئی دلیل ہے !)
پھر موصوف لکھتے ہیں :
اگر کوئی کہے کہ امام ابن المنذر نے لکھا ہے "ایک گروہ نے جرابوں پر مسح کا انکار کیا ہے اور اسے ناپسند کیا ہے ۔ ان میں مالک بن انس , اوزاعی , شافعی اور نعمان (ابو حنیفہ) ہیں اور عطاء (بن ابی رباح) کا یہی مذہب اور آخری قول ہے ۔ مجاہد , عمرو بن دینار اور حسن بن مسلم اسی کے قائل ہیں ۔
الاوسط لابن المنذر ۴۶۵/۱ , دوسرا نسخہ۱۱۹/۲
ان آثار میں امام مالک , اوزاعی ,ابو حنیفہ نعمان ,عطاء بن ابی رباح , مجاہد , عمرو بن دینار اور حسن بن مسلم سے جرابوں کا انکار صحیح متصل سند کے ساتھ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے مردود کے حکم میں ہیں ۔ انتہی (مجلہ الحدیث شمارہ ۱۰۱ ص ۴۳,۴۴)تو عرض ہے کہ جس طرح مذکورہ بالا محدثین عظام و فقہائے کرام سے سے جرابوں کا انکار صحیح متصل سند کے ساتھ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے مردود کے حکم میں ہے تو اجماع ثانی کے دعوى میں "جمیع" سے باریک جرابوں کا انکار بھی صحیح متصل سند کے ساتھ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے مردود کے حکم میں ہے۔ فتدبر !
۲۔ موٹی اور باریک کا فرق نہ کتاب وسنت میں ہے اور نہ ہی مزعومہ اجماع میں ہے ! کما بینا۔
۳۔ کسی کے اجماع کا دعوى کر لینے سے اجماع نہیں ہوتا ! ۔ بلکہ اجماع کے اکثر دعویداران "لا اعلم خلافا " کہنے کے بجائے اجماع کا دعوى کر بیٹھتے ہیں جیسا کہ موصوف کے پیش کردہ اجماع صحابہ کی حالت ہے کہ ابن حزم نے تو صحابہ کرام کے بارہ میں لکھا ہے " لا مخالف لهم من الصحابة ممن يجيز المسح " جو صحابہ (جرابوں پر) مسح کو جائز سمجھتے تھے , صحابہ میں انکا کوئی مخالف نہیں ۔ (المحلى ۸۷/۲ مسئلہ ۲۱۲)
اس پر ابن قدامہ الحنبلی نے اجماع کا دعوى داغ دیا اور کہہ دیا : اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا , لہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے ۔ (المغنی ۱۸۱/۱ مسئلہ : ۴۲۶)
یعنی اختلاف کا علم نہ ہونے کا نام اس طبقہ کے ہاں اجماع بن گیا ہے !!! فاللہ المستعان۔
۴۔ جب اجماع ہوا ہی نہیں تو اس فرق پر اجماع کیسا ؟؟؟
۵۔ راجح مسئلہ یہی ہے کہ جس چیز پر لفظ جراب صادق آتا ہے اس پر مسح کرنا جائز ہے ۔ خواہ وہ باریک ہوں یا موٹی صحیح وسالم ہوں یا پھٹی ہوئی ۔
اور اجماع کسی بھی چیز کے لیے دلیل نہیں بنتا اور بقول ابن رشد :
وَأَمَّا الْإِجْمَاعُ فَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى أَحَدِ هَذِهِ الطُّرُقِ الْأَرْبَعَةِ، إِلَّا أَنَّهُ إِذَا وَقَعَ فِي وَاحِدٍ مِنْهَا، وَلَمْ يَكُنْ قَطْعِيًّا، نَقَلَ الْحُكْمَ مِنْ غَلَبَةِ الظَّنِّ إِلَى الْقَطْعِ. وَلَيْسَ الْإِجْمَاعُ أَصْلًا مُسْتَقِلًّا بِذَاتِهِ مِنْ غَيْرِ إِسْنَادٍ إِلَى وَاحِدٍ مِنْ هَذِهِ الطُّرُقِ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ لَكَانَ يَقْتَضِي إِثْبَاتَ شَرْعٍ زَائِدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ لَا يَرْجِعُ إِلَى أَصْلٍ مِنَ الْأُصُولِ الشَّرْعِيَّةِ.
بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد ص ۱۱
۶۔ شیخ زبیر علی زئی صاحب حفظہ اللہ کے اجماع والے مضمون کا رد میں بایں الفاظ پیش کر چکا ہوں :
اقتباس:
یہ دنوں قسمیں اجماع نہیں ہیں ۔ بلکہ کتاب وسنت ہی ہیں ۔ اور ان کے حجت ہونے کی وجہ کتاب وسنت ہے نہ کہ اجماع !
کتنے ہی ایسے مسائل ہیں جو کتاب وسنت سے ثابت ہیں لیکن ان پر اجماع نہیں ۔ پھر بھی وہ حجت ہی ہیں ۔
یعنی
کتاب وسنت مین عبارۃ , دلالۃ , اشارۃ , اقضاء , التزاما , دلالۃ مذکور کوئی بھی مسئلہ کسی بھی قسم کے نام نہاد اجماع کا محتاج نہیں ہے ۔
اقتباس:
موصوف کی ذکر کردہ تمام مثالیں دوسری قسم میں داخل ہیں جو کہ اجماع نہیں !
۱۔ عدم شذوذ کی شرط بھی کتاب اللہ سے ثابت ہے , اللہ تعالى کے فرمان " ان جاء کم فاسق بنبإ فتبینوا" میں کلمہ "فتبینوا" اس پر دلالت کرتا ہے ۔
۲۔ نماز میں قہقہ لگانے سے نماز کا ٹوٹنا و باطل ہونا کتاب اللہ سے ثابت ہے ۔ اللہ تعالى کے فرمان " وقوموا للہ قانتین" میں قانتین کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے ۔ اسی طرح کلام سے ممانعت والے تمام تر حدیثی دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں ۔ کیونکہ قہقہہ کلام ہی ہے ۔ یاد رہے کہ کلام ہر وہ چیز ہے جس سے مراد سمجھ آجائے اور قہقہہ ہنسے والے کی مراد یعنی خوشی پر دلالت کرتا ہے ۔
تنبیہ بلیغ :
قہقہ لگانے سے نماز کے باطل ہونے پر اجماع نہیں ہے !
کیونکہ
احناف کے نزدیک فساد اور بطلان میں فرق ہے ۔ جبکہ جمہور کے نزدیک فساد اور بطلان ایک ہی چیز ہیں ۔
اور احناف کے نزدیک قہقہہ لگأنے سے نماز فاسد ہوتی ہے , باطل نہیں ہوتی !
۳۔ نومولود کے کان میں اذان دینا جامع ترمذی کی حسن روایت سے ثابت ہے ۔ کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے کان میں اذان دی تھی
۴۔ امام کا جہری نمازوں جہرا تکبیرات کہنا ان نمام تر روایات سے ثابت ہے جن میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز اور امام کی اقتداء کے مسائل ذکر ہیں ۔ اور مقتدیوں کا سرا تکبیرات کہنا اللہ تعالى کے فرمان " واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ودون الجہر من القول " سے ثابت ہے ۔
اسکے بعد موصوف نے اجماع کی حجیت کو ثابت کرنے کے لیے صرف اور صرف دو دلائل دیے ہیں ایک کتاب اللہ سے اور ایک سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جبکہ دونوں دلائل ہی اجماع کی حجیت کے خلاف ہیں !
ملاحظہ فرمائیں :
(وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۘ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَؕ وَسَآءَتْ مَصِیْراً)
اورجو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد ، رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو جدھر وہ پھرتا ہے ہم اُسے اُسی طرف پھیر دیتے ہیں اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ (جہنم) برا ٹھکانہ ہے۔( النسآء:۱۱۵)
یہاں سبیل مؤمنین سے موصوف اجماع مراد لے رہے ہیں جبکہ سبیل مؤمنین رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی موجود تھا اور اس وقت یہ نام نہاد اجماع یعنی کتاب وسنت کی کسی بھی نص سے مسئلہ استنباط کیے بغیر مجتہدین کا اجماع موجود نہ تھا ۔
یعنی یہ آیت کریمہ تو واضح کر رہی ہے کہ حجت وشریعت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ اس دور کے مؤمنین صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ہی مسائل اخذ کرتے تھے ۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ سبیل مؤمنین اجماع نہیں بلکہ کتاب وسنت سے استنباط واجتہاد ہے !
اور موصوف نے "سبیل المؤمنین" کا معنى "اجماع" ثابت کرنے کے لیے ایسے قیل وقال کا سہارا لیا ہے جو خود حجت نہیں ہیں ۔
جبکہ اسی لفظ کا معنى "رجوع إلى الکتاب والسنہ" اسی آیت کی دلالت میں موجود ہے ۔
پھر اسکے بعد موصوف اپنی دوسری دلیل کے طور پر لکھتے ہیں :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ اُمَّتِیْ عَلٰی ضَلَالَۃٍ اَبَداً،وَیَدُاللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ))اللہ میری اُمت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے ۔
(المستدرک الحاکم۱؍۱۱۶ح۳۹۹ وسندہ صحیح)
اور یہی حدیث تیسری دلیل کے طور پر دوسرے مصدر اور الفاظ کے فرق سے یوں بیان کرتے ہیں :
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((لَنْ تَجْتَمِعَ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلَا لَۃِ اَبَداً فَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ یَدَ اللہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ ))
میری اُمت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی ، لہٰذا تم جماعت (اجماع) کو لازم پکڑو، کیونکہ یقیناً اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔
(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۲؍۴۴۷ح۱۳۶۲۳)
اس روایت سے کلمہ " لن تجتمع أمتى على ضلالۃ " یعنی میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی سے اجماع کو ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ۔ جبکہ یہ حدیث تو اس بات دلالت کررہی ہے کہ امت جمع نہیں ہوگی ! یعنی اجماع ہوگا ہی نہیں !!!
اور آج تک اجماع اپنی شروط کے ساتھ کبھی ثابت نہیں ہوا ہے !
اور جن باتوں کو یہ اجماع کہہ کر اجماع کا وجود ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ سب کتاب وسنت سے ثابت ہیں نہ کہ اجماع سے , جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے ۔
ان دو دلائل کے بعد موصوف کے پیش کردہ سارے دلائل ہی مردود ہیں کیونکہ وہ موقوفات , مقطوعات , اقوال ائمہ وغیرہ وغیرہ ہیں جو کہ خود حجت نہیں ہیں ۔ اور جو چیز خود ہی حجت نہ ہو اس سے کسی دوسری چیز کی حجیت کیسے ثابت ہوسکتی ہے ۔
چند لطائف :
آج تک اجماع کی تعریف پر بھی اجماع نہیں ہوسکا ! ,اسکی حجیت تو بہت دور کی بات ہے ۔
اسی طرح اجماع کی شروط پر بھی اجماع نہیں ہوسکا
اسی طرح موصوف نے اجماع کی جو تین اقسام بیان کی ہیں ان پر بھی اجماع نہیں ہے
اسی طرح موصوف کی ذکر کردہ پہلی دو قسموں کو اجماع مصطلح میں داخل کرنے پر بھی اجماع نہیں ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق