آج کل ایک مہم چلی ہوئی ہے بینکوں میں کہ جس طرح کوئی جائیداد کراۓ پر دی
جاتی ہے اسی طرح رقم بھی اسی تناظر میں کراۓ پر دی جاتی ہے ، جس کا بینک
یرۓ کی مد میں منافع دیتے ہیں يا لیتے ہیں. کیا یہ فکر صحیح ہے؟
اس کرائے کو دین میں سود کہا جاتا ہے ۔
اور یہ فکر سود کو حلال کرنے کا کوفی حیلہ ہے
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اس کرائے کو دین میں سود کہا جاتا ہے ۔
اور یہ فکر سود کو حلال کرنے کا کوفی حیلہ ہے
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق