السلام عليکم و رحمة اللہ و برکاتہ
سوال؛ کيا بينک يا کسي بھي کاروباري کمپني (مثلاً سي.ايس.ڈي) سے کسي قسم کي گاڑي يا کوئي بھي چيز ماہانا يا سالانہ اقساط پر لينا شرعاً جائز ہے؟ مہرباني فرما کر قرآن و حديث کي دليل سے مسئلے کا حل بتائيں. جزاک اللہ احسن الجزاء.
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
سوال؛ کيا بينک يا کسي بھي کاروباري کمپني (مثلاً سي.ايس.ڈي) سے کسي قسم کي گاڑي يا کوئي بھي چيز ماہانا يا سالانہ اقساط پر لينا شرعاً جائز ہے؟ مہرباني فرما کر قرآن و حديث کي دليل سے مسئلے کا حل بتائيں. جزاک اللہ احسن الجزاء.
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
ادھار یا قسطوں پر اشیاء کے لین دین کو شریعت اسلامیہ ممنوع نہیں قرار دیتی , بلکہ اسے مستحسن سمجھتی ہے ۔ کیونکہ اس میں لوگوں کا فائدہ ہے ۔ لیکن آج کل اقساط پر اشیاء کی خرید وفروخت کا جو سلسلہ چل نکلا ہے یہ سب سود پر مبنی ہے ۔ اور سود سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے ۔ عصر حاضر میں رائج اصول کے مطابق اقساط پر اشیاء کی خرید وفروخت نقد اور ادھار میں ریٹ کے فرق کے ساتھ ہوتی ہے , قسطوں پر ایک چیز کی قیمت اسکی نقد قیمت سے بڑھا دی جاتی ہے , اور قیمت میں یہ اضافہ محض ادھار یا قسطوں کی بناء پر کیا جاتا ہے جو کہ صریح سود ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوْ الرِّبَا
(سنن ابی داود , کتاب البیوع , باب فیمن باع بیعتین فی بیعۃ , ح ۳۴۶۱ )
جس نے بھی ایک چیز کی دو قیمتیں (مثلا نقد قیمت کچھ اور , ادھار کچھ اور) مقرر کیں تو اسکے لیے کم قیمت جائز ہے اور زیادہ سود ہے ۔
کچھ لوگ صرف ادھار یا قسطوں پر ہی اشیاء بیچتے ہیں اور ایک ایسی قیمت ان اشیاء کی مقرر کرتے ہیں جو انکی نقد قیمت سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف ایک ہی ریٹ پر بیچ رہے ہیں , دو قیمتیں ہم نے مقرر نہیں کیں کوئی نقد خریدے یا ادھار ہمارا ایک ہی ریٹ ہے ۔ تو یہ لوگ حیلہ کے مرتکب ہیں ۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ جسکے پاس نقد چیز خریدنے کی ہمت ہو وہ کبھی بھی اس زیادہ قیمت پر ہم سے نقد میں نہیں خریدے گا بلکہ وہ مارکیٹ میں جا کر اس سے کم معروف قیمت پر یہ چیز خرید لے گا ۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارے پاس وہی شخص آئے گا جو نقد خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔
الغرض یہ لوگ اپنے دل کو تسلی دینے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے حیلہ کا ارتکاب کرتے ہیں کہ ہم نے ایک چیز کے دو ریٹ نہیں مقرر کیے بلکہ نقد اور ادھار میں ریٹ ایک ہی ہے اور وہ ریٹ معروف نقد ریٹ سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔ اور شریعت اسلامیہ نے حیلہ سازی اور حیلہ بازی سے منع فرمایا ہے ۔ (صحیح البخاری .۱۴۵۰)
لہذا مروجہ طریقہ کار کے مطابق قسطوں پر اشیاء کی تجارت سود ہونے کی بناء پر شرعا ممنوع ہے ۔
اس بارہ میں تفصلی دلائل کو جاننے اور قائلین کے دلائل کی حقیت معلوم کرنے کے لیے ہمارے شیخ مفخم استاذ مکرم حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کا مضمون جو انہوں نے شیخ مطاوع حسن الترتوری کے مضمون کے جواب میں لکھا تھا وہ ملاحظہ فرمائیں :
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق