• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، أبريل 10

صدقہ اور خیرات میں کیا فرق ہے ؟



       صدقہ اور خیرات میں کیا فرق ہے ؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

صدقہ اور خیرات  کا لفظ عموما نفلی صدقات پر بولا جاتا ہے ۔ اورویسے تو  شریعت اسلامیہ نے ہر نیکی کو صدقہ قرار دیا ہے (صحیح بخاری:۶۰۲۱) ۔ لیکن صدقہ سے شریعت کی ایک خاص مراد بھی ہے اور وہ ہے" صدقات کے مستحق لوگوں پر خرچ کرنا "۔  صدقات خواہ نفلی ہوں یا فرضی (یعنی زکاۃ , عشر , فطرانہ وغیرہ) انکے مستحق صرف آٹھ قسم کے لوگ ہیں جنکا تذکرہ اللہ تعالى نے سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۶۰ میں فرمایا ہے :
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
ترجمہ : یقینا صدقات صرف اور صرف فقراء , مساکین , صدقات کے عاملین, مؤلفات القلوب (ایسے نئی مسلمان جنہیں اسلام میں راسخ کرنا مقصود ہو انکی دل جوئی کے لیے), غلاموں کی آزادی , مصیبت زدہ لوگوں , مجاہدین فی سبیل اللہ , اور مسافروں کے لیے ہیں ۔ یہ اللہ کی طرف سے عائد کر دہ فریضہ ہے اورا للہ تعالى خوب جاننے والا اور کمال حکمت والا ہے ۔
لیکن کچھ لوگ صدقہ اور خیرات میں یہ فرق  کرتے ہیں کہ ایسا مال جسے وہ صدقات کے مستحق لوگوں پر خرچ کریں اسے صدقہ سے تعبیر کرتے ہیں اور ایسا مال جسے وہ اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنے اعزہ واقرباء اور دوست احباب سمیت دیگر لوگوں پر خرچ کریں اسے وہ لفظ خیرات سے تعبیر کر لیتے ہیں ۔ اور شرعا ان تعبیرات میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔

 

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق