سورة التوبة
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ 84
اور آپ کبھی بھی ان (منافقوں) میں سے جو کوئی مر جائے اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر کھڑے ہوں (کیونکہ آپ کا کسی جگہ قدم رکھنا بھی رحمت و برکت کا باعث ہوتا ہے اور یہ آپ کی رحمت و برکت کے حق دار نہیں ہیں)۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں ہی مر گئے،
سورة النجم
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ 3
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ 4
اور وہ ( نبى ) اپنى خواہش سے كوئى بات نہيں كہتے وہ تو صرف وحى ہے جو اتارى جاتى ہے
شیخ رفیق طاہر صاحب سورہ التوبہ کی آیت 84 کی تفسیر ابن کثیر میں ایک روایت ھے کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ حضو ر صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے آ کر کھڑے ھو گیے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دا من تھام لیا اور عر ض کی آپ اس دشمن رب عبدااللہ بن ابی کے نما ز جنا زہ پڑھاٰییں گے حالانکہ یہ دشمن رب ھے لیکن حضو ر صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی نما ز جناز ہ ادا کی۔ اور پھر یہ قرآن کی آیت نازل ھوئ- اور دوسری قرآن کی آیت سورة النجم ھے
''کہ اور وہ ( نبى ) اپنى خواہش سے كوئى بات نہيں كہتے وہ تو صرف وحى ہے جو اتارى جاتى ہے''
ان آیات قرآنی پر تھوڑی رہنمائ کر دین اور جو روایات حضر ت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ھے اس کی صحت درکار ھے
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (80)
تو اس موقعہ پر نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنا وہ اختیار استعمال فرمایا اور اسکے کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
پھر اسکے بعد اللہ تعالى نے وہ آیت نازل فرما دی جسکا آپ نے بھی تذکرہ کیا ہے اور مشرکین کے لیے دعائے مغفرت حرام قرار دے دی گئی ۔ اور انکا جنازہ پڑھنا بھی ممنوع ٹھہرا دیا گیا ۔
یہ حدیث درست ہے اور صحیح بخاری کتاب الجنائز باب الکفن فی القمیص الذی یکف أو لا یکف .... ح ۱۲۶۹ میں بأیں طور مروی ہے :
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا تُوُفِّيَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَقَالَ آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَهُ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَيْسَ اللَّهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ قَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ
تو نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھنا بھی عین وحی کے مطابق ہی تھا !
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ 84
اور آپ کبھی بھی ان (منافقوں) میں سے جو کوئی مر جائے اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر کھڑے ہوں (کیونکہ آپ کا کسی جگہ قدم رکھنا بھی رحمت و برکت کا باعث ہوتا ہے اور یہ آپ کی رحمت و برکت کے حق دار نہیں ہیں)۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں ہی مر گئے،
سورة النجم
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ 3
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ 4
اور وہ ( نبى ) اپنى خواہش سے كوئى بات نہيں كہتے وہ تو صرف وحى ہے جو اتارى جاتى ہے
شیخ رفیق طاہر صاحب سورہ التوبہ کی آیت 84 کی تفسیر ابن کثیر میں ایک روایت ھے کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ حضو ر صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے آ کر کھڑے ھو گیے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دا من تھام لیا اور عر ض کی آپ اس دشمن رب عبدااللہ بن ابی کے نما ز جنا زہ پڑھاٰییں گے حالانکہ یہ دشمن رب ھے لیکن حضو ر صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی نما ز جناز ہ ادا کی۔ اور پھر یہ قرآن کی آیت نازل ھوئ- اور دوسری قرآن کی آیت سورة النجم ھے
''کہ اور وہ ( نبى ) اپنى خواہش سے كوئى بات نہيں كہتے وہ تو صرف وحى ہے جو اتارى جاتى ہے''
ان آیات قرآنی پر تھوڑی رہنمائ کر دین اور جو روایات حضر ت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ھے اس کی صحت درکار ھے
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
رسول اللہ صلى اللہ
علیہ وسلم کو پہلے اختیار دیا گیا تھأ کہ چاہیں تو انکے لیے دعاء کریں اور
چاہیں تو دعاء نہ کریں , خواہ آپ ستر مرتبہ بھی انکے لیے دعائے مغفرت کریں
گے تو بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (80)
تو اس موقعہ پر نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنا وہ اختیار استعمال فرمایا اور اسکے کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
پھر اسکے بعد اللہ تعالى نے وہ آیت نازل فرما دی جسکا آپ نے بھی تذکرہ کیا ہے اور مشرکین کے لیے دعائے مغفرت حرام قرار دے دی گئی ۔ اور انکا جنازہ پڑھنا بھی ممنوع ٹھہرا دیا گیا ۔
یہ حدیث درست ہے اور صحیح بخاری کتاب الجنائز باب الکفن فی القمیص الذی یکف أو لا یکف .... ح ۱۲۶۹ میں بأیں طور مروی ہے :
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا تُوُفِّيَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَقَالَ آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَهُ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَيْسَ اللَّهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ قَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ
تو نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھنا بھی عین وحی کے مطابق ہی تھا !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق