• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 20

زانی توبہ کیے بغیر نکاح کر لے اور اسے بعد میں علم ہو کہ زنا سے توبہ کرنا نکاح کے لیے شرط ہے تو کیا نکاح درست ہوگا ؟

اگر کوئی زانی ہو اور اس کی شادی ہو جائے اور شادی کے چند سال بعد اسے یہ پتہ چلے کہ زانی کے لئے شادی سے پہلے توبہ لازم ہے اور وہ لاعلمی میں توبہ نہ کر سکا تو ایسے حالت میں اس کا نکاح جائز ہے؟؟؟؟

 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب


وہ زنا سے تائب ہو جائے اسکا نکاح درست ہے ۔
عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ (المائدۃ: 95) 

اللہ تعالى نے گزشتہ کاموں سے درگزر فرما دیا , لیکن جو دوبارہ (جرم کا ارتکاب) کرے گا تو اللہ تعالى اسے سے انتقام لیں گے , اور اللہ تعالى بہت زبردست اور انتقام لینے والے ہیں ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق