• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 20

ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فرمانا "ہم تو اسی طرح عمل کرتے ہیں جیسے ہم نے آپ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ عام ہے یا خاص ؟

شیخ مندرجہ ذیل روایت کے بارے میں بھی اپنی رائے دے دیں کہ آیا یہ عام ہے یا خاص:
’’آلِ خالد بن اُسید کے ایک آدمی (اُمیہ بن عبداللہ بن خالد) سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمٰن !ہم قرآن میں نمازِ خوف اور نمازِ حضر کا ذکر پاتے ہیں اور نمازِ سفر کا ذکر نہیں پاتے ؟ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے! اللہ نے ہمارے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے لہٰذا ہم تو اسی طرح عمل کرتے ہیں جیسے ہم نے آپ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
(ابن ماجہ:1066)


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب

 یہ بھی خاص ہی ہے ۔ کیونکہ ایک خاص چیز یعنی نماز سفر کے بارہ میں سوال ہو رہا ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ اسی کے بارہ میں جواب دے رہے ہیں اور اسی روایت کو اگر سنن نسائی سے بھی دیکھ لیں تو بات اور بھی واضح ہو جائے گی اور ہمارے دعوى کی تصدیق بھی
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ كَيْفَ تَقْصُرُ الصَّلَاةَ وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا وَنَحْنُ ضُلَّالٌ فَعَلَّمَنَا فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ قَالَ الشُّعَيْثِيُّ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ

سنن نسائی ح 457
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق