کیا فوت شدگان کی طرف سے عمرہ کیا جاسکتا ہے؟
نوٹ: بعض علماے کرام عمرہ کو حج پر قیاس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا جا سکتا ہے کیا یہ قیاس صحیح ہے؟
< جواب >
حج فرض ہوتا ہے اس لیے قرض ہوتا ہے ! , جبکہ عمرہ فرض نہیں لہذا وہ قرض نہیں !
یعنی جس پر حج فرض ہو گیا ہو لیکن وہ زندگی بھر حج نہ کرسکے تو اسکے اولیاء اسکے ترکہ میں سے جسطرح باقی قرض ادا کریں گے ایسے ہی اللہ تعالى کا قرض حج بھی ادا کریں گے
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت کو قرض سے تشبیہہ دی ہے :
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
صحیح بخاری کتاب الحج باب الحج والنذور عن المیت ..... الخ ح ۱۸۵۲
جو علت میت کی طرف سے حج کے جائز ہونے کی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے وہ علت عمرہ میں نہیں پائی جاتی
لہذا فوت شدہ کی طرف سے عمرہ کو فوت شدہ کی طرف سے حج پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق یا قیاس باطل یا غلط ہے !
البتہ حج بدل کی طرح عمرہ بدل کیا جاسکتا ہے اس پر نص موجود ہے ۔ عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنْهِ قَال يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ
سنن أبی داود کتاب المناسک باب الرجل یحج عن غیرہ ح ۱۸۱۰
یعنی جس پر حج فرض ہو گیا ہو لیکن وہ زندگی بھر حج نہ کرسکے تو اسکے اولیاء اسکے ترکہ میں سے جسطرح باقی قرض ادا کریں گے ایسے ہی اللہ تعالى کا قرض حج بھی ادا کریں گے
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت کو قرض سے تشبیہہ دی ہے :
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
صحیح بخاری کتاب الحج باب الحج والنذور عن المیت ..... الخ ح ۱۸۵۲
جو علت میت کی طرف سے حج کے جائز ہونے کی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے وہ علت عمرہ میں نہیں پائی جاتی
لہذا فوت شدہ کی طرف سے عمرہ کو فوت شدہ کی طرف سے حج پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق یا قیاس باطل یا غلط ہے !
البتہ حج بدل کی طرح عمرہ بدل کیا جاسکتا ہے اس پر نص موجود ہے ۔ عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنْهِ قَال يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ
سنن أبی داود کتاب المناسک باب الرجل یحج عن غیرہ ح ۱۸۱۰
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق