• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 13

کیا عورت اپنے فوت شدہ خاوند کی جانب سے حج بدل کر سکتی ہے؟

کیا عورت اپنے فوت شدہ خاوند کی جانب سے حج بدل کر سکتی ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں‌دلائل سے مزین جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا 



< جواب >

جی ہاں عورت اپنے خاوند کی طرف سے حج بدل کر سکتی ہے
کیونکہ حج بدل کے لیے اس طرح کی کوئی قید کتاب وسنت میں وارد نہیں ہوئی ہے
اور جس فوت شدہ پر حج فرض ہو شریعت نے اسے قرض سے تعبیر کیا ہے
اور خاوند کا قرض بیوی بھی اتار سکتی ہے
  عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
صحیح بخاری کتاب الحج باب النذور والحج عن المیت ح ۱۸۵۲
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق