کیا عورت اپنے فوت شدہ خاوند کی جانب سے حج بدل کر سکتی ہے؟
کتاب و سنت کی روشنی میںدلائل سے مزین جواب عنایت فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا
< جواب >
جی ہاں عورت اپنے خاوند کی طرف سے حج بدل کر سکتی ہے
کیونکہ حج بدل کے لیے اس طرح کی کوئی قید کتاب وسنت میں وارد نہیں ہوئی ہے
اور جس فوت شدہ پر حج فرض ہو شریعت نے اسے قرض سے تعبیر کیا ہے
اور خاوند کا قرض بیوی بھی اتار سکتی ہے
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
صحیح بخاری کتاب الحج باب النذور والحج عن المیت ح ۱۸۵۲
کیونکہ حج بدل کے لیے اس طرح کی کوئی قید کتاب وسنت میں وارد نہیں ہوئی ہے
اور جس فوت شدہ پر حج فرض ہو شریعت نے اسے قرض سے تعبیر کیا ہے
اور خاوند کا قرض بیوی بھی اتار سکتی ہے
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
صحیح بخاری کتاب الحج باب النذور والحج عن المیت ح ۱۸۵۲
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق