• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 22

بیوی کی اولاد وراثت کی حقدار بنے گی یا نہیں ؟

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔
گزارش ہےکہ ایک شخص فوت ہوا۔اس نے اپنے پیچھے تین بچے چھوڑے ۔جبکہ ایک بیٹا اورایک بیٹی اسکی بیوی کی پہلی اولاد ہے۔اب ان تینوں بچوں میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی۔کیابیوی کے پہلے بچے بھی برابر کے حصہ دار ہونگے؟قرآن وحدیث کی روسے وضاحت فرمادیں۔
جزاکم اللہ خیرا۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
 اگر وہ میت کی اولاد ہیں یعنی مرنے والا ان سب کا مشترکہ باپ ہے تو سب میں ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی نسبت دگنا دیا جائے ۔
اللہ تعالى کا فرمان ہے :
یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین ۔ النساء
اللہ تعالى تمہیں تمہاری اولاد کے بارہ میں وصیت کرتا ہے کہ بیٹے کے لیے بیٹی کی نسبت دوگنا حصہ ہے ۔

اور اگر وہ بچے اس مرنے والے کی اولاد نہیں ہیں تو وہ اس کے ترکہ کے حقدار نہیں ہونگے ۔ بلکہ وہ اپنے باپ کے ترکہ سے ہی حصہ پائیں گے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق