• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، أبريل 12

کیا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا ؟

کیا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک تھا ؟ , ایک دیوبندی مکتب فکر کے نامور مصنف نے ایک کتابچہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے فضائل پر لکھا ہے وہ اس میں رقمطراز ہیں " رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا , سورج کی شعائیں آپکے جسم اطہر سے گزر جاتی تھیں " 





< جواب >

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک تھا , خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنایا ملاحظہ فرمایا اور اسے بیان کیا , بسند صحیح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
عن أنس بن مالك قال : صلينا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الصبح قال : فبينما هو في الصلاة مد يده ثم أخرها فلما فرغ من الصلاة قلنا يا رسول الله صنعت في صلاتك هذه ما لم تصنع في صلاة قبلها قال إني رأيت الجنة قد عرضت علي ورأيت فيها قطوفها دانية حبها كالدباء فأردت أن أتناول منها فأوحى إليها أن استأخري فاستأخرت ثم عرضت علي النار بيني وبينكم حتى رأيت ظلي وظلكم فأومأت إليكم أن استأخروا فأوحى إلي أن أقرهم فإنك أسلمت وأسلموا وهاجرت وهاجروا وجاهدت وجاهدوا فلم أر لي عليكم فضلا إلا بالنبوة
صحيح ابن خزيمة ج 2 ص 50 ح 892
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی , ابھی آپ صلى اللہ علیہ وسلم نماز ہی میں تھے کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا پھر پیچھے کر لیا , تو جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم آپ نے اپنی اس نماز کچھ ایسا کیا ہے کہ جیسا آپ پہلے کسی نماز میں بھی نہیں کیا ۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جنت کو دیکھا , وہ میرے سامنے لائی گئی , اور میں نے اس میں قریب آئے ہوئے خوشے دیکھے جسکے دانے کدو کی طرح کے تھے تو میں نے ان میں سے چننا چاہا , تو اسکی طرف وحی کی گئی کہ پیچھے ہو جا وہ پیچھے ہٹ گئی ۔ پھر میرے سامنے تمہارے اور میرے درمیان جہنم پیش کی گئی , حتى کہ میں نے اپنا اور تمہارا سایہ دیکھا , تو میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہو جاؤ , تو میری طرف وحی گئی کہ انہیں اسی حالت میں برقرار رکھیے , کیونکہ آپ بھی اور وہ بھی مسلمان ہو چکے ہیں اور آپ نے بھی اور انہوں نے بھی ہجرت کی ہے , اور آپ نے بھی اور انہوں نے بھی جہاد کیا ۔ تو میں نے دیکھا کہ مجھے تم پر نبوت کے علاوہ اور کوئی فضیلت حاصل نہیں ۔
اسی طرح  اللہ رب العالمین نے قرآن مجید فرقان حمید میں تو نہایت ہی واضح الفاظ میں فرمایا ہے :
أَوَ لَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا خَلَقَ اللّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلاَلُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالْشَّمَآئِلِ سُجَّداً لِلّهِ [النحل : 48]
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالى نے جس قدر بھی مخلوق پیدا فرمائی ہے انکا سایہ دائیں اور بائیں اللہ کے لیے سجدہ کرنے کو بڑھتا ہے ۔
یعنی اللہ تعالى کی تمام تر مخلوق کا سایہ موجود ہے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق