والدین کی اجازت کے بغیر جہاد یعنی قتال کیا جاسکتا ہے ؟
جہاد فرض عین ہے یہ کبھی فرض کفایہ نہیں ہوتا ! جسطرح زکاۃ فرض عین ہے کبھی فرض کفایہ نہیں ہوتی اور حج فرض عین ہے کبھی فرض کفایہ نہیں ہوتا ۔ لیکن جسطرح زکاۃ اور حج ہر شخص پر فرض نہیں ایسے ہی قتال ہر شخص پر فرض نہیں ہوتا ۔
اور والدین کی اطاعت وفرمانبرداری بھی فرض عین ہے اور یہ فریضہ ہر وقت ہر شخص پر لاگو ہوتا ہے ۔ والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے ۔
جیسا کہ خاوند کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے اور بیوی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی عبادت نہیں کرسکتی اور فرضی روزوں کی قضائی بھی اسکی اجازت کے بغیر نہیں دے سکتی حالانکہ فرضی روزوں کی قضائی بھی فرض عین ہی ہے ۔
بالکل اسی طرح جہاد بھی فرض عین ہی ہے لیکن اولاد والدین کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرسکتی ۔ والدین کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا ۔
جیسا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنے یا فرضی روزہ کی قضاء دینے والی عورت خاوند کی نافرمانی کی وجہ سے کبیرہ گناہ کی مرتکب ہے۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
جہاد فرض عین ہے یہ کبھی فرض کفایہ نہیں ہوتا ! جسطرح زکاۃ فرض عین ہے کبھی فرض کفایہ نہیں ہوتی اور حج فرض عین ہے کبھی فرض کفایہ نہیں ہوتا ۔ لیکن جسطرح زکاۃ اور حج ہر شخص پر فرض نہیں ایسے ہی قتال ہر شخص پر فرض نہیں ہوتا ۔
اور والدین کی اطاعت وفرمانبرداری بھی فرض عین ہے اور یہ فریضہ ہر وقت ہر شخص پر لاگو ہوتا ہے ۔ والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے ۔
جیسا کہ خاوند کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے اور بیوی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی عبادت نہیں کرسکتی اور فرضی روزوں کی قضائی بھی اسکی اجازت کے بغیر نہیں دے سکتی حالانکہ فرضی روزوں کی قضائی بھی فرض عین ہی ہے ۔
بالکل اسی طرح جہاد بھی فرض عین ہی ہے لیکن اولاد والدین کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرسکتی ۔ والدین کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا ۔
جیسا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنے یا فرضی روزہ کی قضاء دینے والی عورت خاوند کی نافرمانی کی وجہ سے کبیرہ گناہ کی مرتکب ہے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق