السلام علیکم،
عقیقہ کا حکم کیا ہے واجب ہے یا سنت ہے؟
کیا عقیقہ ساتویں دن ہی کرنا ضروری ہے؟
اگر کوئی ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرلے تو کیا حکم ہے؟
لڑکا بعد مغرب پیدا ہو تو کیا وہ دن شمار ہوگا یا اسکے بعد والادن؟
جزاک اللہ خیرا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
۱۔ عقیقہ کرنا فرض ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہر بچہ کو عقیقہ کے عوض گروی قرار دیا ہے (صحیح بخاری ح ۵۴۷۲) اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کرنے کا حکم بھی صادر فرمایا ہے (صحیح بخاری ح ۵۴۷۱)
۲۔ جی ہاں عقیقہ ساتویں دن ہی کیا جائے ۔
۳۔ سنت کے خلاف ہے ۔
۴۔ شمار ہوگا ۔ کیونکہ عرف عام میں رات کا ابتدائی حصہ سابقہ دن میں شمار میں کیا جاتا ہے اور آخری حصہ آئندہ دن میں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم سائسندانوں نے جب گھڑیاں ایجاد کیں تو تاریخ کی تبدیلی کا وقت عین رات کا وسط یعنی بارہ بجے رکھا ۔
عقیقہ کا حکم کیا ہے واجب ہے یا سنت ہے؟
کیا عقیقہ ساتویں دن ہی کرنا ضروری ہے؟
اگر کوئی ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرلے تو کیا حکم ہے؟
لڑکا بعد مغرب پیدا ہو تو کیا وہ دن شمار ہوگا یا اسکے بعد والادن؟
جزاک اللہ خیرا
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
۱۔ عقیقہ کرنا فرض ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہر بچہ کو عقیقہ کے عوض گروی قرار دیا ہے (صحیح بخاری ح ۵۴۷۲) اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کرنے کا حکم بھی صادر فرمایا ہے (صحیح بخاری ح ۵۴۷۱)
۲۔ جی ہاں عقیقہ ساتویں دن ہی کیا جائے ۔
۳۔ سنت کے خلاف ہے ۔
۴۔ شمار ہوگا ۔ کیونکہ عرف عام میں رات کا ابتدائی حصہ سابقہ دن میں شمار میں کیا جاتا ہے اور آخری حصہ آئندہ دن میں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم سائسندانوں نے جب گھڑیاں ایجاد کیں تو تاریخ کی تبدیلی کا وقت عین رات کا وسط یعنی بارہ بجے رکھا ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق