"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اھلِ علم کی توجہ چاھتا ھوں:
ایک صاحب نے ایک کافر سے سود پر قرض لیا ھوا ھے۔ اسے ماھانہ متعینہ رقم دینا ھے تاکہ اس کا سود مزید نہ بڑھے۔
کیا میں اس شخص کو اس کے ماھانہ رقم کی ادائیگی کے لئے قرض دے سکتا ھوں؟
اھل علم احباب سے گذارش ھے کہ میری رھنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً"
آپ اسے اسکا قرض اتارنے کے لیے قرض دے سکتے ہیں اور سود سے جان چھڑوانے کے لیے بھی ۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے " وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان " یعنی نیکی اور تقوى کے کاموں میں ایکدوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایکدوسرے سے تعاون نہ کرو ۔
اھلِ علم کی توجہ چاھتا ھوں:
ایک صاحب نے ایک کافر سے سود پر قرض لیا ھوا ھے۔ اسے ماھانہ متعینہ رقم دینا ھے تاکہ اس کا سود مزید نہ بڑھے۔
کیا میں اس شخص کو اس کے ماھانہ رقم کی ادائیگی کے لئے قرض دے سکتا ھوں؟
اھل علم احباب سے گذارش ھے کہ میری رھنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً"
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہآپ اسے اسکا قرض اتارنے کے لیے قرض دے سکتے ہیں اور سود سے جان چھڑوانے کے لیے بھی ۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے " وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان " یعنی نیکی اور تقوى کے کاموں میں ایکدوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایکدوسرے سے تعاون نہ کرو ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق