ایک روایت میں آتا ھے نبی (صلى الله عليه وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا
تھا کیو نکہ آپ (صلى الله عليه وسلم نور تھے حوالہ الخصیاص الکبری جلال
الدین سیوطی جلد 1 صفحہ 169 برائے میربانی وضاحت فرما دیں ؟
آپکی نقل کردہ بات امام سیوطی نے الخصائص الکبر ج ۱ ص ۱۱۶ میں یوں نقل کی ہے :
اخرج الحكيم الترمذي عن ذكوان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرى له ظل في شمس ولا قمر قال ابن سبع من خصائصه ان ظله كان لا يقع على الأرض وأنه كان نورا فكان إذا مشى في الشمس أو القمر لا ينظر له ظل
یعنی امام سیوطی نے یہ بات حکیم ترمذی کی کتاب نوادر الاصول سے نقل فرمائی ہے اور حکیم ترمذی صاحب خود ضعیف راوی ہیں !
تنبیہ بلیغ : جامع الترمذی کے مصنف امام ابو عیسى محمد بن عیسى بن سورہ الترمذی اور یہ نوادر الاصول کے مصنف حکیم ترمذی صاحب دو الگ الگ شخصیات ہیں حکیم ترمذی صاحب کا نام محمد بن علي بن الحسن بن بِشْر تھا ۔ یہ انتہائی گمراہ شخص تھا اور ترمذ والوں نے اسے اپنے علاقہ سے نکال دیا تھا اور اس پر کفر تک کے فتوے لگے تھے تفصیل کے دیکھیے السير (13/ 441)
تنبیہ ثانی : نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارکہ کتاب وسنت کی نصوص سے ثابت ہے ۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
آپکی نقل کردہ بات امام سیوطی نے الخصائص الکبر ج ۱ ص ۱۱۶ میں یوں نقل کی ہے :
اخرج الحكيم الترمذي عن ذكوان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرى له ظل في شمس ولا قمر قال ابن سبع من خصائصه ان ظله كان لا يقع على الأرض وأنه كان نورا فكان إذا مشى في الشمس أو القمر لا ينظر له ظل
یعنی امام سیوطی نے یہ بات حکیم ترمذی کی کتاب نوادر الاصول سے نقل فرمائی ہے اور حکیم ترمذی صاحب خود ضعیف راوی ہیں !
تنبیہ بلیغ : جامع الترمذی کے مصنف امام ابو عیسى محمد بن عیسى بن سورہ الترمذی اور یہ نوادر الاصول کے مصنف حکیم ترمذی صاحب دو الگ الگ شخصیات ہیں حکیم ترمذی صاحب کا نام محمد بن علي بن الحسن بن بِشْر تھا ۔ یہ انتہائی گمراہ شخص تھا اور ترمذ والوں نے اسے اپنے علاقہ سے نکال دیا تھا اور اس پر کفر تک کے فتوے لگے تھے تفصیل کے دیکھیے السير (13/ 441)
تنبیہ ثانی : نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارکہ کتاب وسنت کی نصوص سے ثابت ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے سایہ مبارکہ کی دلیل
ردحذفhttp://ftawatahiria.blogspot.com/2012/04/blog-post_8386.html