السلام علیکم
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 101 حدیث مرفوع مکررات 8 متفق علیہ 6 بدون مکرر
اسماعیل بن ابی اویس، مالک، ہشام بن عروۃ، عروہ، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں سے) نکال لے بلکہ علماء کو موت دیکر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرں کو بھی گمراہ کریں گے۔
مندرجہ بالا حدیث میں سے یہ وضاحت درکار ہے کہ عالم اور جاہل کی پہچان کیا ہے؟؟؟؟
جب بھی ایسا زمانہ آئے گا، تو اس زمانے کی پہچان کیسے ہو گی؟؟؟؟
( کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اس زمانے میں اب موجود ہیں)
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عالم وہ ہوتاہے جسے اہل علم بھی " عالم" کہیں ۔
اور علماء کے اٹھنے کا تسلسل اب بھی جاری ہے ۔
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 101 حدیث مرفوع مکررات 8 متفق علیہ 6 بدون مکرر
اسماعیل بن ابی اویس، مالک، ہشام بن عروۃ، عروہ، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں سے) نکال لے بلکہ علماء کو موت دیکر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرں کو بھی گمراہ کریں گے۔
مندرجہ بالا حدیث میں سے یہ وضاحت درکار ہے کہ عالم اور جاہل کی پہچان کیا ہے؟؟؟؟
جب بھی ایسا زمانہ آئے گا، تو اس زمانے کی پہچان کیسے ہو گی؟؟؟؟
( کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اس زمانے میں اب موجود ہیں)
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عالم وہ ہوتاہے جسے اہل علم بھی " عالم" کہیں ۔
اور علماء کے اٹھنے کا تسلسل اب بھی جاری ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق