ہمارے ایک دوست نے انکی بیٹی کا غقیقہ کیا ہے مگر انہوں نے سمجھا کہ عقیقہ
سات دنوں کے اندر کر سکتے ہیں جبکہ تین کام ساتویں دن کرنا ہے جیسا کہ حدیث
ہے۔
اب وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا عقیقہ ہوا ہے یا نہیں؟ چو نکہ عقیقہ وقت سے پہلے کردیا ہے تو کیا اس پر کچھ کفارہ ہے؟ تاکہ غلطی کی تلافی ہو اور انکی بیٹی کا عقیقہ عنداللہ قبول ہو۔
انہوں نے یہ کام لا علمی کی بناء پر کیا ہے ۔ لہذا اس غلطی کا ان پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔
ہاں وہ وقت پر یا اسکے بعد علم ہونے پر عقیقہ دوبارہ کریں ۔
کیونکہ دین اسلام کا یہ اصول ہے کہ جن کاموں کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے اگر وہ کام وقت سے پہلے سر انجام دے دیے جائیں تو انسان اس فریضہ سے عہدہ برآ نہیں ہوتا , بلکہ انہیں دوبارہ کرنا پڑتا ہے ۔ جیسا کہ قربانی , آذان , نماز وغیرہ .
اب وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا عقیقہ ہوا ہے یا نہیں؟ چو نکہ عقیقہ وقت سے پہلے کردیا ہے تو کیا اس پر کچھ کفارہ ہے؟ تاکہ غلطی کی تلافی ہو اور انکی بیٹی کا عقیقہ عنداللہ قبول ہو۔
الجواب بعون الوہاب
انہوں نے یہ کام لا علمی کی بناء پر کیا ہے ۔ لہذا اس غلطی کا ان پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔
ہاں وہ وقت پر یا اسکے بعد علم ہونے پر عقیقہ دوبارہ کریں ۔
کیونکہ دین اسلام کا یہ اصول ہے کہ جن کاموں کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے اگر وہ کام وقت سے پہلے سر انجام دے دیے جائیں تو انسان اس فریضہ سے عہدہ برآ نہیں ہوتا , بلکہ انہیں دوبارہ کرنا پڑتا ہے ۔ جیسا کہ قربانی , آذان , نماز وغیرہ .
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق