کیا عورت کے لیے عام
حالات میں گاڑی ڈرائیو کرنا جائز ہے ؟ یعنی اپنے باپ ، بھائی ، خاوند ،
بیٹے یا کسی محرم کی موجودگی میں گاڑی ڈرائیو کر کے بازار سے سودا سلف لانے
کے لیے یا کسی دوسرے کام کے لیے جانا جائز ہے ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
جب
عورت کا محرم رشتہ دار مرد ساتھ موجود ہو تو وہ کہیں بھی جانے کے لیے اسکی
موجودگی میں ڈرائیونگ کر سکتی ہے خواہ وہ دونوں ایک ہی سواری پر سوار ہوں
خواہ علیحدہ علیحدہ سواری پر
گوکہ مرد کی موجودگی میں ڈرائیونگ کا زیادہ حق مرد کو ہی ہے ۔ لیکن اسکے برعکس بھی جائز ہے اسکی دلیل وہ تمام تر احادیث ہیں جن میں افضل کا مفضول کی اقتداء میں نماز وغیرہ ادا کرنا اور مفضول کا امامت کبرى و دیگر امارات پر فائز ہونا ہے مثلا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کرنا اور کئی اصحاب رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی موجود میں ان سب کا یزید وغیرہ کے ہاتھ پر امامت کبرى کی بیعت کرنا وغیرہ |
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق