• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، يونيو 15

کیا عورت کار ڈرائیونگ کر سکتی ہے ؟؟؟

کیا عورت كار چلا سکتی ہے ؟

بخاری مسلم کی اس حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ ازواج المطہرات اور ازواج الصحابہ اونٹ چلاتی تھیں ۔

کیا یہ واقعہ خاص ہے حالت جنگ کیلیے یا عام ہے؟

کیا یہ لوگ اپنے محرموں کے سامنے اونٹ چلاتیں تھیں یا اکیلے میں بھی؟
امید ہے تفصیلی اور مدلل جواب دیا جائگا۔


الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب

عورت کے لیے جو سفر کرنا جائز ہے اس سفر میں ڈرائیونگ کرنا بھی جائز ہے ۔
خواتین کا ڈرائیونگ کرنا ثابت ہے :
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب النہی عن لعن الدواب وغیرھا ح 2595
اور ان روایات کو صرف جہاد کے سفر کے ساتھ مقید کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
سفر حج میں بھی عورتوں کا ڈرائیونگ کرنا ثابت ہے
سنن أبی داود کتاب السنۃ باب ترک السلام على أھل الأھواء ح 4602
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق