• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، أغسطس 30

اگر تہجد اور وتر ایک ہی نماز ہے تو احادیث کی کتب میں انکے لیے علیحدہ علیحدہ ابواب کیوں قائم ہیں

ہے تو پھر وتر نماز کے علیحدہ سے باب کیوں بناۓ گۓ ہیں؟

اور پھر عشاہ کی نماز کے بعد اگر ایک یا تین وتر پڑھ لیں تو آپ کی یہ قیام الیل ہو جاۓ گی جبکہ ثابت گیارہ یا تیرا رکعت ہیں؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

وتر کے ابواب میں بھی قیام اللیل کے مسائل مذکور ہوتے ہیں اور قیام اللیل کے ابواب میں بھی وتر کے مسائل مذکور ہوتے ہیں ۔ لہذا یہ سوال بے بنیاد ہے ۔

اگر کوئی تین پانچ یا سات یا نو وتر عشاء کے فورا بعد بھی پڑھ لے تو یہی اسکے لیے قیام اللیل شمار ہو جائے گا ۔
یاد رہے کہ دو رکعت قیام اللیل بھی ثابت ہے !
 
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق