ہے تو پھر وتر نماز کے علیحدہ سے باب کیوں بناۓ گۓ ہیں؟
اور پھر عشاہ کی نماز کے بعد اگر ایک یا تین وتر پڑھ لیں تو آپ کی یہ قیام الیل ہو جاۓ گی جبکہ ثابت گیارہ یا تیرا رکعت ہیں؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وتر کے ابواب میں بھی قیام اللیل کے مسائل مذکور ہوتے ہیں اور قیام اللیل کے ابواب میں بھی وتر کے مسائل مذکور ہوتے ہیں ۔ لہذا یہ سوال بے بنیاد ہے ۔
اگر کوئی تین پانچ یا سات یا نو وتر عشاء کے فورا بعد بھی پڑھ لے تو یہی اسکے لیے قیام اللیل شمار ہو جائے گا ۔
یاد رہے کہ دو رکعت قیام اللیل بھی ثابت ہے !
اور پھر عشاہ کی نماز کے بعد اگر ایک یا تین وتر پڑھ لیں تو آپ کی یہ قیام الیل ہو جاۓ گی جبکہ ثابت گیارہ یا تیرا رکعت ہیں؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وتر کے ابواب میں بھی قیام اللیل کے مسائل مذکور ہوتے ہیں اور قیام اللیل کے ابواب میں بھی وتر کے مسائل مذکور ہوتے ہیں ۔ لہذا یہ سوال بے بنیاد ہے ۔
اگر کوئی تین پانچ یا سات یا نو وتر عشاء کے فورا بعد بھی پڑھ لے تو یہی اسکے لیے قیام اللیل شمار ہو جائے گا ۔
یاد رہے کہ دو رکعت قیام اللیل بھی ثابت ہے !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق