• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، أبريل 10

بیوہ عورت دوسری شادی کر لے تو پہلے شوہر کے لواحقین سے وراثت پائے گی ؟


بیوہ عورت دوسری شادی کر لے تو پہلے شوہر کے لواحقین سے وراثت پائے گی؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
 


بیوہ عورت اپنے سابقہ خاوند کے ترکہ میں سے حصہ دار ہے خواہ وہ دوسری شادی کرے یا نہ کرے کیونکہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے :
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ (النساء: 12)
اور ان (تمہاری بیویوں) کے لیے تمہارے ترکہ میں سے چوتھا حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہیں ہے , اور اگر تمہاری اولاد ہے تو انکے لیے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے , قرضہ کی ادائیگی اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد ۔
اسی طرح عورت جن جن لوگوں کی وارث بنتی ہے دوسری شادی کے بعد بھی انکی وارث ہی رہتی ہے , دوسری شادی وراثت کے مسائل پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق